صحافی کی بازیابی، بچوں کا احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ سرحد میں صحافیوں کے بچوں نے اتوار کو صحافی سہیل قلندر اور ان کے ساتھی کی بازیابی کے لیئے علامتی بھوک ہڑتال میں حصہ لیا۔ اردو روزنامہ ایکسپریس کے پشاور میں ریزیڈینٹ ایڈیٹر سہیل قلندر اور ان کے ساتھی محمد نیاز کو پشاور کے حیات آباد کے علاقے سے دو جنوری کو نامعلوم افراد نے اغوا کرلیا تھا۔ اس کے بعد سے ان کے متعلق کوئی مصدقہ اطلاع نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں۔ اس گمشدگی کے بعد سے صحافتی تنظیمیں مختلف شہروں میں احتجاج کرتی رہی ہیں لیکن بظاہر سہیل کی بازیابی میں کوئی پیش رفت ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔ اس اغوا پر حکومت بھی اب تک بے بس دکھائی دے رہی ہے۔ اتوار کو پشاور پریس کلب میں مقامی صحافیوں کے تیس سے زائد بچوں نے قائم احتجاجی بھوک ہڑتالی کیمپ میں شرکت کی۔ ان میں سہیل قلندر کے دو بچوں نے بھی شامل تھے۔ ان میں چار سالہ ببرک خان اور اڑھائی سالہ وفا گل بھی شامل تھیں جنہوں نےبی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ان کے والد بہت یاد آتے ہیں۔ انہوں نے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ’صدر مشرف اور وزیر اعلی درانی ہمارے والد کو چھوڑ دو۔‘ اس موقع پر مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی کیمپ کا دورہ کیا اور حکومت پر سہیل قلندر کو بازیاب کرانے کی کوششیں تیز کرنے پر زور دیا۔ صحافیوں کے علاوہ حقوق انسانی کی تنظیموں کے نمائندے، اخبار فروش یونین کے عہدیداراور سیاستدان بھی کئی ہفتوں سے جاری اس احتجاج میں حصہ لے رہے ہیں۔ اڑتیس سالہ سہیل قلندر پشاور سے ایکسپریس کی اشاعت کے آغاز یعنی ستمبر دو ہزار دو سے منسلک تھے۔ ان کی اغوا کی وجوہات ابھی تک پوری طرح واضع نہیں ہیں۔ | اسی بارے میں اخبار کا ایڈیٹر کئی روز سے ’لاپتہ‘18 January, 2007 | پاکستان سہیل قلندر کی بازیابی کے لیے احتجاج31 January, 2007 | پاکستان پشاور میں حکومت پر عدم اعتماد16 February, 2007 | پاکستان دو لاپتہ افراد تیرہ ماہ بعد برآمد09 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||