ڈی آئی خان میں شیعہ رہنما قتل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پولیس کا کہنا ہے کہ صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے بدھ کی صبح فائرنگ کر کے ایک شیعہ رہنما جواد حسین کو ہلاک کر دیا ہے۔ واقعہ سٹی تھانہ سے چند فرلانگ کے فاصلے پر پیش آیا ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس اسلم خٹک نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب جواد حسین بدھ کی صبح دس بجے گھر سے نکلےتو چھوٹا بازار کے قریب دو موٹر سائیکلوں پر سوار مسلح افراد نے ان کو نشانہ بنایا۔ اسلم خٹک کا کہنا ہے کہ جواد حسین کے سر میں تین گولیاں لگیں جس سے وہ مو قع پر ہی ہلاک ہوگئے۔ ڈی ایس پی کا مزید کہنا ہے کہ حملہ آور فرار ہونے میں کامیا ب ہوگئے ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔ پولیس نے شہر کی ناکہ بندی کردی ہے اور گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی تلاشی لی جارہی ہے۔ اسلم خٹک کا کہنا تھا کہ بظاہر یہ فرقہ ورانہ قتل معلوم نہیں ہورہا ہے البتہ پولیس تحقیقات کر رہی ہے۔ جواد حسین نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان کے صوبائی نائب صدر اورڈیرہ اسماعیل خان میں شیعہ کمیونٹی کے فعال رکن تھے۔ ان کی میت جلوس کی شکل میں ان کےگھر لے جائی گئی اور اس موقع پر تقریباً دو سو مشتعل افراد نےحکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔اطلاعات کے مطابق شہر میں کشیدگی بڑھ گئی ہے اور بازار کا کچھ حصہ بند ہوگیا ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں شیعہ تنظیم اسلامی تحریک کے صوبائی رہنما غلام عباس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے الزام لگایا ہےکہ قتل میں سنی تنظیم کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے حکومت پر بھی تنقید کی کہ قاتلوں کے بارے میں مکمل معلومات رکھنے کے باوجود کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھا رہی ہے۔ غلام عباس کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران پانچ مقامی شیعہ افراد کو قتل کیا گیا ہے۔ واضح رہے ڈیرہ اسماعیل خان میں عاشورہ سے ایک دن قبل بھی ایک خودکش حملے میں ایک پولیس اہلکار سمیت تین افراد ہلاک جبکہ چھ زخمی ہوئے تھے۔ | اسی بارے میں ہنگو سے کرفیو اٹھا لیا گیا10 February, 2007 | پاکستان پشاور: دھماکے، سکیورٹی اور خوف11 February, 2007 | پاکستان آدم خیل: این جی او کے دفتر میں دھماکہ12 February, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||