BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 February, 2007, 09:24 GMT 14:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈی آئی خان میں شیعہ رہنما قتل

گزشتہ دنوں میں صوبہ سرحد فرقہ وارانہ تشدد کی زد میں ہے
پولیس کا کہنا ہے کہ صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے بدھ کی صبح فائرنگ کر کے ایک شیعہ رہنما جواد حسین کو ہلاک کر دیا ہے۔ واقعہ سٹی تھانہ سے چند فرلانگ کے فاصلے پر پیش آیا ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس اسلم خٹک نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب جواد حسین بدھ کی صبح دس بجے گھر سے نکلےتو چھوٹا بازار کے قریب دو موٹر سائیکلوں پر سوار مسلح افراد نے ان کو نشانہ بنایا۔

اسلم خٹک کا کہنا ہے کہ جواد حسین کے سر میں تین گولیاں لگیں جس سے وہ مو قع پر ہی ہلاک ہوگئے۔

ڈی ایس پی کا مزید کہنا ہے کہ حملہ آور فرار ہونے میں کامیا ب ہوگئے ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔ پولیس نے شہر کی ناکہ بندی کردی ہے اور گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی تلاشی لی جارہی ہے۔

اسلم خٹک کا کہنا تھا کہ بظاہر یہ فرقہ ورانہ قتل معلوم نہیں ہورہا ہے البتہ پولیس تحقیقات کر رہی ہے۔

جواد حسین نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان کے صوبائی نائب صدر اورڈیرہ اسماعیل خان میں شیعہ کمیونٹی کے فعال رکن تھے۔

ان کی میت جلوس کی شکل میں ان کےگھر لے جائی گئی اور اس موقع پر تقریباً دو سو مشتعل افراد نےحکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔اطلاعات کے مطابق شہر میں کشیدگی بڑھ گئی ہے اور بازار کا کچھ حصہ بند ہوگیا ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں شیعہ تنظیم اسلامی تحریک کے صوبائی رہنما غلام عباس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے الزام لگایا ہےکہ قتل میں سنی تنظیم کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے حکومت پر بھی تنقید کی کہ قاتلوں کے بارے میں مکمل معلومات رکھنے کے باوجود کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھا رہی ہے۔

غلام عباس کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران پانچ مقامی شیعہ افراد کو قتل کیا گیا ہے۔

واضح رہے ڈیرہ اسماعیل خان میں عاشورہ سے ایک دن قبل بھی ایک خودکش حملے میں ایک پولیس اہلکار سمیت تین افراد ہلاک جبکہ چھ زخمی ہوئے تھے۔

اسی بارے میں
ہنگو سے کرفیو اٹھا لیا گیا
10 February, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد