BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کاویری فیصلہ: کرناٹک میں ہڑتال
فائل فوٹو
پانی کی تقسیم کا مسئلہ حل کرنے کے لیے کوششیں عرصے سے چل رہی ہیں
ہندوستان کی جنوبی ریاست کرناٹک میں کاویری کے پانی کی تقسیم سے متعلق کاویری ٹرائبیونل کے فیصلے کے خلاف احتجاج میں پیر کے روز ریاست میں بارہ گھنٹے کی ہڑتال ہے۔ یہ ہڑتال بعض مقامی قوم پرست تنظیموں کی اپیل پر کی گی ہے۔

ہڑتال کے پیش نظر شہر میں حفاظتی احکامات نافذ کر دیے گیے ہیں۔اور بیک وقت چار افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی لگا دی گی ہے۔

بنگلور میں ٹرانسپورٹ کے محکمے نے اپنی بسیں نہ چلانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے سبب عام زندگی متاثر ہورہی ہے۔ تجارتی مراکزاور کاروبار بند ہے۔ بعض نجی ہوائی جہازوں کے آنے جانے کے اوقات میں کچھ تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ سڑکوں پر ٹریفک بہت کم ہے۔

 احتیاط کے طور پرحکومت نے ریاست میں ایک روز کے لیے سکول اور کالجز بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

احتیاط کے طور پرحکومت نے ریاست میں ایک روز کے لیے سکول اور کالجز بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس دوران سنیما ہال، ریستوران، اور زیادہ تر بینک بھی بنگلور میں بند ہیں۔

حکام نے حفاظتی انتظامات کے تحت ستر ہزار پولیس فورسز تعینات کیے ہیں اور ایک ہزار افراد کو گرفتار بھی کیا ہے۔

بنگلور کے پولیس کمشنر اچیوت راؤ نے اتوار کے روز بتایا کہ پڑوسی ریاست کیرالہ اور اندھراپردیش کی پولیس کی مدد لی جارہی ہے۔
گزشتہ پانچ فروری کو ایک ٹرايبیونل نے دریاۓ کاویری کے پانی کی تقسیم سے متعلق اپنا حتمی فیصلہ سنایا تھا جس کے تحت ریاست تمل ناڈو کو ہر سال دریائے کاویری سے 419 ملین کیوبک فٹ پانی ملے گا۔ جبکہ کرناٹک کو 270 ملین کیوبک فٹ پانی ملے گا۔ کرناٹک اس فیصلے سے مطمئن نہیں ہے۔اور مزید پانی چاہتا ہے۔

شہر میں زیادہ تر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تجارتی مراکز نے اپنے کاروبار بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔بنگلور میں پندرہ سو سے زیادہ بڑے تجارتی مراکز ہیں۔آئی بی ایم، ہیولیٹ پیکارڈ، اینفوسیس، اور ویپرو کا مرکزی دفتر بھی یہیں واقع ہیں۔

1991میں کاویری کے پانی کی تقسیم سے متعلق ایک فیصلے کے نتیجے میں فسادات ہوئ تھے جس میں اٹھارہ افراد ہلاک ہوگیے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد