BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 06 February, 2007, 11:27 GMT 16:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دریائے کاویری: بنگلور میں احتجاج
دریائے کاویری
دریا کے پانی پر جھگڑے کی ابتداء برطانوی دور میں ہوئی تھی
ہندوستان کی جنوبی ریاست کرناٹک کے دارالحکومت بنگلور اور دیگر علاقوں میں دریائے کاویری کے پانی کی تقسیم پر بنائےگئے ٹریبیونل کے ایک فیصلے کے خلاف احتجاج کیا جا رہا ہے۔

ریاست کے کسانوں کے احتجاج کی وجہ سے پندھاو پور، مدور اور مندیہ علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ بنگلور میں حالات کشیدہ ہیں اور پولیس نے حفاظتی انتظامات سخت کر دیے ہیں اور ایک سو پچاس مظاہرین کو گرفتار کیا ہے۔

منگل کی صبح سے احتجاج کی وجہ سے میسور اور بنگلور کو جوڑنے والی ایکسپریس شاہراہ پر ٹریفک کی آمدورفت معطل ہوگئی ہے۔ ریاست میں تعلیمی ادارے بھی بند ہیں۔

پیر کو دریائے کاویری کے پانی کی تقسیم پر17 برس قبل بنائے گئے ٹربیونل نے اپنا فیصلہ سنایا تھا۔ اس فیصلے کے تحت ریاست تمل ناڈو کو ہر سال دریائے کاویری سے 419 ملین کیوبک فٹ پانی جبکہ کرناٹک کو 270 ملین کیوبک فٹ پانی ملےگا۔

کرناٹک حکومت اس فیصلے سے مطمئن نہیں ہے اور اس کا مطالبہ ہے کہ اسے ملنے والے پانی کی مقدار میں اضافہ کیا جائے۔ حکومت نے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کرے گی۔ ریاست میں تمام سیاسی جماعتوں کا ایک اجلاس بدھ کو طلب کیا گیا ہے جس میں مستقبل کی حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔

کرناٹک اور تمل ناڈو دونوں ہی ریاستوں کا دعویٰ ہے کہ انہیں خطے میں لاکھوں کسانوں کے لیے پانی کی ضرورت ہے۔

ہندوستان کا آئین دریائے کاویری کو’ بین الریاستی‘ دریا قرار دیتا ہے۔ یہ دریا کرناٹک سے شروع ہوتا ہے اور تمل ناڈو سے ہوکر کیرالہ اور پانڈیچری سے بھی گزرتا ہے۔

پانی کی تقسیم پر جھگڑے کی شروعات انیسویں صدی میں مدراس پریزیڈینسی (جو اس وقت تمل ناڈو ہے) اور صوبہ میسور (جو اب کرناٹک ہے) کے درمیان برطانوی دور حکومت کے دوران ہوئی تھی۔

پیر کو یہ فیصلہ آنے سے قبل بنگلور پولیس نے کم از کم سات سو افراد کو احتیاط کے طور پر گرفتار کیا تھا۔ امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے 16 ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد