دریائے کاویری: بنگلور میں احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی جنوبی ریاست کرناٹک کے دارالحکومت بنگلور اور دیگر علاقوں میں دریائے کاویری کے پانی کی تقسیم پر بنائےگئے ٹریبیونل کے ایک فیصلے کے خلاف احتجاج کیا جا رہا ہے۔ ریاست کے کسانوں کے احتجاج کی وجہ سے پندھاو پور، مدور اور مندیہ علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ بنگلور میں حالات کشیدہ ہیں اور پولیس نے حفاظتی انتظامات سخت کر دیے ہیں اور ایک سو پچاس مظاہرین کو گرفتار کیا ہے۔ منگل کی صبح سے احتجاج کی وجہ سے میسور اور بنگلور کو جوڑنے والی ایکسپریس شاہراہ پر ٹریفک کی آمدورفت معطل ہوگئی ہے۔ ریاست میں تعلیمی ادارے بھی بند ہیں۔ پیر کو دریائے کاویری کے پانی کی تقسیم پر17 برس قبل بنائے گئے ٹربیونل نے اپنا فیصلہ سنایا تھا۔ اس فیصلے کے تحت ریاست تمل ناڈو کو ہر سال دریائے کاویری سے 419 ملین کیوبک فٹ پانی جبکہ کرناٹک کو 270 ملین کیوبک فٹ پانی ملےگا۔ کرناٹک حکومت اس فیصلے سے مطمئن نہیں ہے اور اس کا مطالبہ ہے کہ اسے ملنے والے پانی کی مقدار میں اضافہ کیا جائے۔ حکومت نے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کرے گی۔ ریاست میں تمام سیاسی جماعتوں کا ایک اجلاس بدھ کو طلب کیا گیا ہے جس میں مستقبل کی حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔ کرناٹک اور تمل ناڈو دونوں ہی ریاستوں کا دعویٰ ہے کہ انہیں خطے میں لاکھوں کسانوں کے لیے پانی کی ضرورت ہے۔ ہندوستان کا آئین دریائے کاویری کو’ بین الریاستی‘ دریا قرار دیتا ہے۔ یہ دریا کرناٹک سے شروع ہوتا ہے اور تمل ناڈو سے ہوکر کیرالہ اور پانڈیچری سے بھی گزرتا ہے۔ پانی کی تقسیم پر جھگڑے کی شروعات انیسویں صدی میں مدراس پریزیڈینسی (جو اس وقت تمل ناڈو ہے) اور صوبہ میسور (جو اب کرناٹک ہے) کے درمیان برطانوی دور حکومت کے دوران ہوئی تھی۔ پیر کو یہ فیصلہ آنے سے قبل بنگلور پولیس نے کم از کم سات سو افراد کو احتیاط کے طور پر گرفتار کیا تھا۔ امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے 16 ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ | اسی بارے میں کاویری:پانی کی تقسیم پر فیصلہ06 February, 2007 | انڈیا بنگلور: سخت ترین حفاظتی انتظامات04 February, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||