فوجی کی ہلاکت کی تحقیق | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں موجود نیٹو افواج کی طرف سے جاری ایک بیان میں گزشتہ روز پاک افغان سرحد پر ایک پاکستانی فوجی کی ہلاکت اور تین کے زخمی ہونے پر گہرے رنج وغم کا اظہار کیا گیا ہے۔ پاکستانی فوج اور اتحادی افواج نے واقعے کی مشترکہ طور پر تحقیقات شروع کی ہے۔ پاکستانی فوج کے مطابق پیر کی سہ پہر کو قبائلی علاقے شوال میں اتحادی افواج کی غلطی سے کی گئی فائرنگ کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک اور تین زخمی ہوئے تھے۔ لیکن اتحادی افواج نے اپنے بیان میں کسی قسم کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ بات ابھی تک واضح نہیں ہوسکی ہے کہ واقعے کا ذمہ دار کون ہے۔ اتحادی افواج کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب شدت پسندوں نے افغانستان کے صوبہ پکتیا میں قائم ایساف کے فوجی اڈہ پر حملہ کیا جس کے بعد شدت پسندوں کے ایک گروپ کو پاکستانی سرحد کی جانب فرار ہوتے دیکھا گیا۔ بیان کے مطابق قریب ہی سے جنگی طیاروں کی کمک حاصل کی گئی جنہوں نے شدت پسندوں کا پیچھا کرتے ہوئے ان پر فائرنگ کی جسکے نتیجے میں ایک شدت پسند ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔ بیان کے مطابق اسی واقعے کے بعد پاکستانی حکام نے اپنے ایک فوجی کی ہلاکت اور تین کے زخمی ہونے کی رپورٹ دی ہے۔ پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نےکہا تھا کہ انہوں نے اتحادی افواج سے اس واقعہ کی تحقیقات کے علاوہ ایسے اقدامات کا بھی مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جاسکے۔ ایک دن بعد جاری ہونے والے بیان میں اتحادی افواج کا کہنا ہے کہ پاکستانی اور اتحادی فوج نے مشترکہ طور پر اس واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہے۔ اس سے قبل بھی کئی مرتبہ افعانستان میں موجود امریکی اور اتحادی افواج نے پاکستانی سرحد کی خلاف ورزیاں کی ہیں اور ہر بار پاکستان نے احتجاج کے بعد تحفیقات کرانے کامطالبہ کیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود اس فسم کے واقعات رکے نہیں ہیں۔ | اسی بارے میں الزام لگانا بند کر دیں: مشرف07 September, 2006 | پاکستان نیٹو کمانڈر پاکستان پہنچ گئے09 October, 2006 | پاکستان نیٹوکمانڈر کی مشرف سے ملاقات10 October, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||