اچھے کھانوں، لباس کا شوق ہے: قصوری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی وزیر خارجہ خورشید قصوری کا کہنا ہے کامیاب شادی کا راز یہ ہے کہ بیگم کے ہاتھ کے پکے ہر کھانے کی تعریف کی جائے۔ بی بی سی ہندی کے سنجیو شریواستو کے ساتھ دلی میں ایک غیر رسمی انٹرویو کے دوران خورشید قصوری کا کہنا تھا کہ ’فلمیں ہندوستانی ہو یا پاکستانی ، کلاسیکل، سیمی کلاسیکل یا پھر انگریزی، مجھے سب طرح کی فلمیں پسند ہیں‘۔ سنجیو کے ساتھ پاکستانی وزیر خارجہ کی مزید گفتگو کچھ اس انداز میں ہوئی۔ سب سے پہلا سوال: آپ ہمیشہ سجھے دھجے انداز میں دکھائی دیتے ہیں۔ اعلٰی سوٹ بوٹ، ٹائی۔ یہ شوق پرانا ہے کیا؟ جی ہاں ۔ یہ شوق پرانا ہے۔ میرے والد کو کپڑوں کا خاص شوق نہیں تھا لیکن میری والدہ کو پرانے خاندانی کپڑوں کا خاصا شوق تھا۔ چونکہ میں گھر کا سب سے بڑا لڑکا تھا تو میری والدہ میرا خاص خیال رکھتی تھیں۔ شاید میری والدہ سے ہی مجھے وراثت میں یہ شوق ملا۔ پہلے فطرتاً پھر عادتاً۔ س: پہلے زمانے میں سجنا سنورنا اور اچھے کپڑے پہننا ٹھیک نہیں سمجھا جاتا تھا۔ لیکن آج کل تو اس کے لیے نیا لفظ بنا دیا گیا ہے ’میٹرو سیکشول‘؟ میں آپ کا مطلب سمجھ گیا ہوں مگر پاکستان میں یہ روایت کبھی نہیں رہی۔ ہندوستان میں اگر مہاتما گاندھی آئيڈل رہے ہیں تو پاکستان میں قائد اعظم محمد علی جناح۔ ہمارے یہاں لباس کو کبھی پیمانہ نہیں مانا گیا۔ اور نہ ہی اچھے کپڑے پہننا برا سمجھا گیا۔ نہ قائد اعظم کے لیے، نہ بھٹو کے لیے ، نہ ہی محترمہ فاطمہ جناح کے لیے اور نہ ہی پرویز مشرف کے لیے۔ یہ تو سوچ کا فرق ہے۔ لوگ آپ کے کام کو دیکھتے ہیں، نہ کہ آپ کے لباس کو۔ جہاں تک پاکستان کے ووٹرز کا سوال ہے تو میں دیہاتی علاقوں سے چنا گیا ہوں۔ اگر لوگوں پر لباس کا منفی اثر ہو تو میں سمجھتا ہوں کہ مجھے اس کا نقصان ہوتا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ایک بار میں جلدبازی میں اپنے انتخابی علاقے میں سوٹ کے بجائے روایتی شلوار کرتے میں چلا گیا تو وہاں کے لوگ مایوس ہوئے۔
س: آپ نے جناح سے لے کر صدر مشرف کے ملبوسات کا ذکر کیا۔ آپ کی نظر میں سب سے اچھا ’ڈریس سینس‘ کس کا تھا؟ میرے خیال سے قائد اعظم جناح کا۔ پنڈت جی کو تو میں نے سوٹ میں نہیں دیکھا لیکن ان کی بڑی شہرت تھی اور لوگ کہتے ہیں کہ ان کے کپڑے پیرس سے دھل کر آتے تھے۔ یہ بات سچ ہے یا جھوٹ یہ تو نہیں پتا لیکن لگتا ہے کہ انہیں بھی کپڑوں کا کافی شوق تھا۔ س: آپ کے پسندیدہ گانے کون سے ہیں؟ فیض احمد فیض اور نورجہاں کا گایا گیت ’مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ‘ مجھے بہت پسند ہے۔ اس کے علاوہ ’یہ ہوا یہ رات، یہ چاندنی۔۔۔‘ مجھے پسند ہے۔ یہ گانا پاکستان میں کافی مقبول ہوا تھا۔ حالانکہ مجھے یہ نہیں پتا کہ یہ کس نے گایا ہے۔ اس کے علاوہ غالب کی غزل جسے جگجیت سنگھ نے گایا ہے ’رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل‘۔ فیض احمد فیض کا ’جب تاج اچھالے جائیں گے، جب تخت اکھاڑے جائیں گے‘۔ اور فلم محل کا گانا ’آئے گا آئے گا آنے والا‘۔ فلمیں ہندوستانی ہو یا پاکستانی ، یا پھر کلاسیکل، سیمی کلاسیکل یا پھر انگریزی، مجھے سب طرح کی فلمیں پسند ہیں۔ بچپن سے ہی مجھے ہر طرح کا کھانا اور موسیقی پسند ہے۔
س: آپ نے کھانے کی بات کی، تو آپ کو کھانے میں کیا پسند ہے؟ مجھے جاپانی ، ہندوستانی، پاکستانی ، بنگلہ دیشی اور چینی وغیرہ سبھی کھانے پسند ہیں۔ بنجاب یونیور سیٹی سے تاریخ میں بی اے کر نے کے بعد میں اکیس سال کی عمر میں پاکستان سے بیرون ملک چلا گیا تھا۔ انگلینڈ میں پانچ برس قیام رہا، لندن کاسموپولیٹن شہر ہے وہاں ہر قسم کا کھانا ملتاہے اگر اچھا بنایا گیا ہو تو مجھے ہر قسم کا کھانا اچھا لگتا ہے۔ س: اور کس کے ہاتھوں کا کھانا پسند ہے؟ اب وہ زمانہ گیا جب ہم یہ کہیں کہ بیگم کے ہاتھوں کا۔ اب تو خانساماں ہی کھانا بناتا ہے۔ پہلے جب میں وزیر نہیں تھا تو وقت ملتا تھا، بچوں کے ساتھ برطانیہ میں چھٹیاں گزارنے جاتا تھا تو وہاں میری بیگم کرائے کے فلیٹ پر کھانا بناتیں تھیں۔ میری بیگم پاکستان کی کامیاب خواتین میں شامل ہیں وہ جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا نجی سکول چلارہی ہیں۔ کیمبریج ’اے‘ اور ’او‘ لیول کی تیاری کرارہی ہیں۔ تیس سال پہلے انیس بچوں سے اس سکول کی شروعات کی گئی تھی اور آج بیس ہزار طالب علم اس سکول میں زیر تعلیم ہیں۔ مصروفیت کے باوجود انہیں کھانا بنانے کا شوق ہے لیکن موقع پاکستان سے باہر جانے کے بعد ہی ملتا ہے۔ کچھ دن پہلے وہ مجھ سے کہہ رہی تھیں کہ میں فرانسیسی کیوزین کا کورس کرنا چاہتی ہوں میں نے کہا ضرور، اس سے فائدہ مجھے ہی ہوگا کیونکہ اس کا تجربہ مجھ پر ہی کیا جائےگا۔ س: کیا آپ ان شوہروں میں شامل ہیں جو بیگم کچھ بھی بنائے، اس کی تعریف ضرور کرتے ہیں؟
وہ تو کرنی ہی چاہیے، میرے خیال میں کامیاب شادی کا راز بھی یہ ہی ہے۔ خاص طور پر بیگم کھانا بنائیں۔ کھانا کیسا بنا ہے یہ بہت اہم نہیں ہے زیادہ ضروری آپ کے خیالات ہیں۔ س: مجھے بہت دلچسپ لگ رہا ہے کہ ابھی تک کے انٹرویو میں آپ نے سب سے زیادہ وقت اپنی بیگم کو دیا ہے اور کھل کر ان کی تعریف کی ہے۔ میں بغیر کسی شک کے کہہ سکتا ہو کہ وہ پاکستان کی سب سے کامیاب شخصیات میں سے ایک ہیں۔ان کا مقصد صرف منافع حاصل کرنا نہیں ہے۔ ابھی ہم نے ایک یونیورسٹی قائم کی ہے اور میں فخر کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اس کامقصد فائدہ حاصل کرنا نہیں ہے۔اس یونیورسٹی کا ایک ٹرسٹ کا گروپ ہے اور اس میں صرف دو ممبر میرے خاندان سے ہیں۔ س۔ تو کیا آپ قبول کرتے ہیں کہ آپ کی بیگم آپ سے زیادہ کامیاب ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ کئی معاملات میں وہ مجھ سے آگے ہیں۔ آپ کی تعلیم اچھی رہی ہے کیا آپ کو ایسا لگتا ہے کہ سیاست میں اوکسفرڈ اور کیمبرج کی پڑھائی کام آتی ہے ۔ دیکھیے زندگی کا مقصد صرف اور صرف سیاست میں کامیابی ہے تو پھر کوئی فائدہ نہیں ہے۔ لیکن میرا مقصد صرف یہ نہیں ہے میں سیاست میں بھی کسی مقصد سے ہوں میں سمجھتا ہوں کہ تعلیم انسان کی زندگی کے ہر موڑ پر رہنمائی کرتی ہے۔ تعلیم کا فائدہ پبلک زندگی میں ملتا ہے۔ آپ کے خیالات کا پیمانہ بدل جاتا ہے۔ ہر شخص قوم کے مفاد میں کام کرنا چاہتا ہے، لیکن قوم کا مفاد کیا ہے بہت حد تک اس شخص کی تعلیم اور اس کا سماجی پس منظر ان کی سمجھ پر اثر انداز ہوتا ہے۔ حالانکہ بعض لوگ مجھ پر اور صدر پرویز مشرف پر نکتہ چینی کر تے ہیں لیکن ہم قوم کے مفاد کو فروغ دے رہے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ ہماری تعلیم یہ بتا رہی ہے کہ ان اقدامات میں قوم کی ترقی پنہاں ہے۔
س: کیا آپ وزیر خارجہ ہونے کا لطف اٹھا رہے ہیں؟ اگر کام میں کوئی چیلنج نہیں ہو تو کام میں مزا نہیں لیکن چیلنج ہے تو لطف آرہا ہے۔ اگر صرف گاڑی پر پرچم ہے اور پوچھ تاچھ ہوتی تو میرے لیے بڑی مشکل ہوتی۔ اس سے پرائیویسی ختم ہو جاتی۔ پاکستان میں موقع نہیں ملتا۔ لندن میں بیگم کے ساتھ فلم دیکھنے گیا تھا تو وہاں بھی لوگوں نے گھیر لیا اور تصویریں کھینچنے لگے۔ س: معاف کیجیےگا، فلم سٹار ہو یا راک سنگر یا پھر سیاسی شخصیت۔ ہر کوئی یہ ضرور کہتا ہے کہ ان کی پرائیویسی ختم ہو جاتی ہے جبکہ کتنے لوگ اس پوزیشن تک پہچنے کے لیے ہی ترس رہے ہیں کہ ان کی پرائیویسی ختم تو ہو؟ میں نے یہ نہیں کہا کہ مجھے برا لگا، البتہ میری بیگم کو بہت برا لگا، کہنے کا مطلب ہے قیمت چکانی پڑی۔ وزیر خارجہ بننا میرے لیے چیلنج ہے۔ آپ آج پاکستان ، بنگلہ دیش اور افغانستان کے ساتھ تعلقات دیکھیں تو میں سمجھتا ہوں کہ ان حالات میں فرق کرنا پڑے گا۔ اگر آپ قائد اعظم کے خوابوں کو پورا کرنا چاہتے ہیں تو یہ ہی راستا اپنانا ہوگا۔ میں اللہ کا شکر گزار ہوں کہ کے مجھے وزیر خارجہ کے طور پر ملک کو قائد اعظم کے راستے پر لے جانے کا موقع فراہم دیا۔ س: ہالی ووڈ کے کون سے سٹار پسند ہیں؟ راک ہڈسن سے میں متاثر تھا۔ان کے رومانوی کردار پسند تھے۔ س: کرکٹ کا کریز ہے کیا؟ س: سیاست میں جانے کا شوق کب ہوا؟ تین نسلوں سے ہمارا خاندان سیاست میں ہے۔ میرے دادا فریڈم فائٹر رہے ہیں۔ ہندوستان میں مولانا محمد علی کے بعد دوسرے نمبر کے رہنما تھے۔ انیس سال کی عمر میں میرے والد ہندوستان چھوڑدو کی تحریک میں شامل ہوئے اور گرفتار بھی ہوئے تھے۔ اس لیے پبلک لائف میرے خون میں شامل ہے۔ | اسی بارے میں پرنب کی وزیراعظم ،صدر سےملاقات13 January, 2007 | پاکستان کشمیر: مشترکہ کنٹرول کی تیاری13 January, 2007 | انڈیا پرنب پاکستان کے دورے پر13 January, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||