نوجوان کی ناک اور کان کاٹ ڈالے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی پنجاب کےشہر ملتان میں مسلح افراد نے غیرت کے نام پر ایک نوجوان کی ناک اورکان کاٹ ڈالے جبکہ اس کی والدہ کا بازو الگ کر دیا۔ اس واقعے میں نوجوان کا بھائی بھی زخمی ہوا ہے۔ نوجوان اقبال نے اپنے گاؤں کی ایک لڑکی سے شادی کی تھی جس کے خاندان والے خود کو اونچی ذات کا سمجھتے ہیں اور اس شادی پر راضی نہیں تھے۔ ضلعی پولیس افسر ملتان منیر احمد چشتی نے بی بی سی کو بتایا کہ تھانہ الپا کی پولیس نے سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے سات ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے جن کے خلاف انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا۔ زخمی ہونے والا بائیس سالہ اقبال ملتان کے نواحی گاؤں عنایت پورہ کا رہائشی تھا۔ ضلعی پولیس افسر نے کہا کہ اقبال موچی برادری سے تعلق رکھتا تھا جسے گاؤں کے اکثریتی مہوٹہ برادری کے لوگ اپنے سے کم تر سمجھتے ہیں۔ ایک برس قبل اس نے گاؤں کے مہوٹہ برادری کے ایک شخص فلک شیر سے اس کا باغ خرید لیا اس دوران لڑکے کی فلک شیر کی بیٹی سے ملاقات ہوئی۔ دونوں شادی کے خواہشمند تھے لیکن لڑکی کے گھروالے راضی نہ ہوئے تو انہوں نے مرضی سے شادی کر لی۔ پولیس کے مطابق ان کے خلاف اغوا کا مقدمہ اس بنیادپر خارج ہوگیا کہ لڑکی نے عدالت میں بیان دیا تھا کہ اس نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے۔ دونوں نےگاؤں چھوڑ دیا اور لڑکے کے دیگر عزیز واقارب بھی مہوٹہ برادری کے خوف سے روپوش ہوگئے جو اس شادی کے خلاف تھے اور اسے اپنی غیرت پر حملہ سمجھتے تھے۔ پولیس کے مطابق عید کے روز اقبال، ان کی والدہ منظوراں مائی اور بھائی یاسین عنایت پورہ میں اپنے دیگر عزیز واقارب کہ ہمراہ عید منانے کے لیے موجود تھے کہ مخالف مہوٹہ برادری کے دو درجن سے قریب مسلح افراد نے مبینہ طورپر حملہ کر دیا۔ پولیس کے مطابق ملزمان کلہاڑیوں اور خنجروں سے لیس تھے۔ زخمی اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ وہ اس سے اس کی بیوی کے بارے میں پوچھتے رہے لیکن اس نے پتہ بتانے سے انکار کر دیا کیونکہ اسے خدشہ تھا کہ وہ اسے قتل کر دیں گے۔ ملزمان اقبال اس کے بھائی اور والدہ کو مبینہ طور پر اغوا کرکے دوفرلانگ دور اپنے ڈیرے پر لے گئے جہاں سے پولیس نے انہیں بازیاب کیا۔ ضلعی پولیس افسر منیر احمد چشتی نے بتایا کہ انہیں ون فائیو کے ذریعے اطلاع ملی تھی اور پولیس کے پہنچنے سے قبل ملزمان دونوں بھائیوں کے کان کاٹے جا چکے تھے۔ اقبال کی ناک بھی کاٹ دی گئی تھی لیکن ساتھ لٹک رہی تھی منظوراں کا بازو کاٹ کاکر الگ کر دیا گیا تھا۔ زخمیوں کو ہسپتال داخل کرا دیا گیا جہاں منظوراں کا بازو اور اقبال کی ملتان پولیس سات افراد گرفتاری کے بعد مزید گرفتاریوں کے لیے چھاپے مار رہی ہے۔ پولیس نے ملزمان کے خلاف اغوا، اقدام قتل، مار پیٹ اور انسداد دہشت گردی کے ایکٹ کے علاوہ خاتون کو سرعام برہنہ کرنے کے الزام میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ تین سو چون اے کے تحت بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ان میں سے صرف ایک دفعہ کی سزاموت ہے۔ پولیس کے مطابق ’ملزمان نے مبینہ طورپر منظوراں مائی کے کپڑے بھی پھاڑ دئیے تھے جس کی وجہ سے وہ برہنہ ہوگئی تھی‘۔ ضلعی پولیس افسر نے کہا کہ اگر پولیس انہیں بازیاب نہ کرتی توخدشہ تھاکہ ملزمان انہیں اذیتیں دینے کےبعد قتل ہی کر دیتے۔ پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ہر برس تقریباً ایک ہزار افراد غیرت کے نام پر ہلاک کر دیئے جاتے ہیں۔ انسانی حقوق کمشن پاکستان کی جوائنٹ ڈائریکٹر کاملہ حیات نے کہا ہے کہ پاکستان میں غیرت کے نام پر ایک نیا اور تکلیف دہ رجحان سامنے آیا ہے جس میں مرضی سے شادی کرنے والوں کے جسمانی اعضا کاٹ دئیے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس جرم کا نشانہ زیادہ تر خواتین بنتی ہیں۔ | اسی بارے میں مریضوں کےاعضاء کاٹنے کاعمل 27 October, 2005 | پاکستان ’شوہرنے ناک، ہونٹ کاٹ دیے‘13 November, 2005 | پاکستان دیور نے ناک، ہونٹ کاٹ دیئے23 September, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||