BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 14 December, 2006, 13:57 GMT 18:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پی پی پی کے خلاف صحافیوں کا احتجاج

آر آئی یو جے کے صحافی
مظاہرے میں شامل صحافیوں نے پیپلز پارٹی کے خلاف بھرپور نعرے لگائے
راولپنڈی اور اسلام آباد کے صحافیوں کی تنظیم ’ آر آئی یو جے‘ کی اپیل پر جمعرات کو صحافیوں نے حزب مخالف کی جماعت پیپلز پارٹی کے خلاف ان کے صدر دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔

یہ مظاہرہ ’پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس‘ کے صدر پرویز شوکت، سی آر شمسی، فوزیہ شاہد اور دیگر کی سربراہی میں ہوا۔ مظاہرے کا مقصد پیپلز پارٹی کے ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات سجاد بخاری کی جانب سے نیشنل پریس کلب پر قبضے کے خلاف احتجاج کرنا تھا۔

مظاہرے کے شرکاء نے اس موقع پر بھرپور نعرے لگائے کہ ’بینظیر جواب دو، پریس کلب کا قبضہ خالی کرو‘ اور ’پریس کلب پر قبضہ نامنظور‘۔

صحافیوں کے نمائندوں نے تقریریں کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی جو جمہوری اداروں کے بحالی کی بات کرتی ہے اب وہ خود اداروں پر قبضہ کر رہی ہے۔ انہوں نے فی الفور نیشنل پریس کلب کو خالی کرنے اور قبضہ صحافیوں کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔

صحافیوں نے پیپلز پارٹی پر الزام لگایا کہ صحافیوں کی بہبود کے نام پر سرکاری خزانے سے رقم لے کر اب اُسے تجارتی مقاصد کے لیے استمعال کیا جا رہا ہے۔

پرویز شوکت نے کہا کہ اگر ایک ہفتے میں صحافیوں کو قبضہ نہیں ملا تو بینظیر بھٹو کے میڈیا سیل کے سامنے دھرنا دیا جائے گا اور پیپلز پارٹی کی سرگرمیوں کی کوریج کا ملکی سطح پر بائیکاٹ کیا جائے گا۔

 ہم نے نیشنل پریس کلب کے نام پر نہیں بلکہ میڈیا فاؤنڈیشن نام پر پلاٹ لیا اور چالیس سے زائد صحافیوں کو کم قیمت پر فلیٹ بنا کر دیے
سابق سینیٹر سجاد بخاری

فوزیہ شاہد نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں پیپلز میڈیا فاؤنڈیشن نامی ایک غیر سرکاری تنظیم بنا کر اس کے نام پر پلاٹ حاصل کر کے سرکاری خزانے سے اُسے رقم فراہم کی گئی اور عمارت تعمیر کی گئی۔ ان کے مطابق اس کمپلیکس میں صحافیوں کو قسطوں پر فلیٹ دیے گئے اور نیشنل پریس کلب بنانے کا فیصلہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ عمارت میں جس جگہ پریس کلب بننا تھا جب اس کا ڈھانچہ تیار ہوا اور تعمیر ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی تو میاں نواز شریف کے دورِ حکومت میں اس پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔ اس وقت صحافیوں کی تنطیم نے زیرِ تعمیر عمارت کو پریس کلب کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا۔

صحافیوں کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ وہ تین برس تک نیشنل پریس کلب کو صحافتی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرتے رہے اور اب سابق سینیٹر سجاد بخاری نے لاہور سے اپنے بندے بلوا کر نیشنل پریس کلب پر قبضہ کرکے تالے لگا دیے ہیں۔

صحافیوں کے مطابق انہوں نے پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنماؤں سے جب اس بارے میں شکایت کی تو مخدوم امین فہیم، ناہید خان، رضا ربانی ، صفدر عباسی اور دیگر نے مداخلت کی اور کمیٹی بھی بنی۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی کے بیشتر رہنماؤں نے صحافیوں کے مؤقف کی حمایت کی لیکن بینظیر کے سامنے وہ کچھ نہیں بولتے۔

گزشتہ ہفتے جب صحافیوں نے مظاہرے کا پروگرام بنایا تو عین وقت پر ناہید خان نے ان سے رابطہ کر کے ایک ہفتے کی مہلت لی لیکن پھر بھی جب معاملہ طے نہیں ہوا تو انہوں نے مظاہرہ کیا۔

آر آئی یو جے کے صحافی
ایسا مظاہرہ پاکستان میں پہلی بار ہوا ہے کہ صحافی پریس کلب پر قبضہ کے خلاف کسی حزب مخالف کی جماعت کے خلاف مظاہرہ کریں

اس بارے میں جب لاہور میں سابق سینیٹر سجاد بخاری سے فون پر رابطہ کیا گیا تو انہوں نے صحافیوں کا یہ الزام رد کردیا کہ پیپلز پارٹی صحافیوں کے نام پر سرکاری خزانے سے رقم لے کر اب اُس منصوبے کو کمرشل مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

سجاد بخاری نے ایک سوال پر کہا کہ انہوں نے نیشنل پریس کلب کے نام پر نہیں بلکہ میڈیا فاؤنڈیشن جوکہ این جی او ہے، کے نام پر پلاٹ لیا اور چالیس سے زائد صحافیوں کو کم قیمت پر فلیٹ بنا کر دیے۔ ان کے مطابق عمارت زیرِ تعمیر ہے اور جب مکمل ہوگی تو پھر فیصلہ ہوگا کہ نیشنل پریس کلب بننا ہے کہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ سی آر شمسی اور فوزیہ شاہد کو صحافیوں کا نمائندہ نہیں مانتے اور اگر نیشنل پریس کلب بنانے کا فیصلہ ہوا تو اس میں ملک بھر کے سینیئر صحافی شامل ہوں گے۔

انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ وہ نیشنل پریس کلب نامی جگہ صحافیوں کے حوالے نہیں کرسکتے۔ ان کے بقول یہ معاملہ ابھی عدالت میں ہے اور جب عدالت کا حکم آئے گا تو معاملات اس کی روشنی میں نمٹائے جائیں گے۔

صحافیوں کی تنظیم اور پیپلز پارٹی کے سرکردہ رہنما کا مؤقف اور دعوے اپنی جگہ لیکن ایسا انوکھا مظاہرہ پاکستان میں شاید پہلی بار ہوا ہے کہ صحافی پریس کلب پر قبضہ کے خلاف کسی حزب مخالف کی جماعت کے خلاف مظاہرہ کریں۔

اسی بارے میں
صحافتی تنظیموں کی تشویش
21 November, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد