BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 19 October, 2006, 18:34 GMT 23:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چلتن ایکسپریس پر حملہ، انجن تباہ

رمضان میں بلوچستان میں تشدد کے واقعات میں کمی آئی ہے
بلوچستان کے علاقے مچھ نامعلوم افراد نے لاہور سے کوئٹہ آنے والے چلتن ایکسپریس پر کئی راکٹ فائرکیے ہیں جس کے نتیجے میں چلتن ایکسپریس کا انجن تباہ ہوگیا ہے مگرکوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

واقعہ کے بعد حکومت نے علاقے کی ناکہ بندی کردی ھے مگر کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

کوئٹہ سے تقریبا 50 کلومیڑ دور بعض نامعلوم افراد نے جمعرات کی شام کو لاہور سے کوئٹہ آنے والی چلتن ایکسپریس پر کئی راکٹ فائر کیے جس کے نتیجےمیں 2 راکٹ چلتن ایکسپریس کے انجن کو لگے اور انجن تباہ ھو گیا جبکہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

کوئٹہ میں ریلو ے حکام کے مطابق واقعہ کی وجہ سے کوئٹہ سے کراچی جانے والی بلوچستان ایکسپریس اور راولپنڈی سے کوئٹہ آنے والی جعفرایکسپریس کو کئی گھنٹے تک مچھ اور کوئٹہ میں رکنا پڑا۔

آخری اطلاعات کے مطابق اب یہ دونوں گاڑیاں اپنی اپنی منزل مقصود کی طرف روانہ ہو چکی ہیں جبکہ متاثرہ چلتن ایکسپریس کو بھی متبادل انجن کے ذریعے کوئٹہ لایا جارہا ہے۔

اس سلسلے میں جب حکومت بلوچستان کے ترجمان رازق بگٹی سے رابطہ کیا گیا توانہوں نے بتایا کہ واقعہ کے فوراً بعد حکومت نے مذکورہ علاقے کی ناکہ بندی کردی ہے، تاہم ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی اور نہ ہی کسی نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

تاہم رازق بگٹی نے چلتن ایکسپریس پرراکٹ باری کودہشت گردی قراردے کر دعویٰ کیا کہ حکومت بہت حد تک صوبے میں دہشت گردی کے اس طرح کے واقعا ت پہ قابو پاچکاہے۔

یاد رہے کہ بلوچستان میں کچھ عرصے سے اس طرح کے واقعات رونما ہورہے ہیں۔
جس میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نامی تنظیم کی جانب ریلوے، واپڈا ، ٹیلی فون اور دیگر سرکاری تنصبات کونشانہ بنایا جارہا ہے اگرچہ ماہ رمضان میں ان واقعات میں کمی آئی تھی لیکن چلتن ایکسپریس پر حالیہ حملے نے ثابت کردیا ھے حکومت کے خلاف بلوچ شدت پسندوں کی تحریک ختم نہیں ھوئی ہے۔

دوسری جانب فرنٹیر کور نے دعویٰ کیا ھے کہ کوہلو کے فاضل چل کے علاقے میں پاکستانی فورسیز کے ساتھ ایک کارروائی میں بلوچ لیبریشن آرمی کا ڈپٹی کمانڈر بازمری ہلاک ہوگیا ہے۔

کوئٹہ میں فرنٹیر کور کے ترجمان میجرعمر کے مطابق بازمری گزشتہ روز فراریوں کے خلاف ایک کارروائی میں زخمی ھوئے تھے جنہں زخمی حالت میں کوئٹہ کے ملٹری ہسپتال لایا گیا جہاں وہ آج زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے۔

تاھم مری اتحاد کے ترجمان اللہ بخش مری نے کہا ھے کہ بازخان ایک بلوچ سپاہی تھے وہ بی ایل اے کے ڈپٹی کمانڈر نہیں تھے۔

ان کے مطابق گزشتہ روز پاکستانی فورسیز نے کوہلو کے فاضل چل کے علاقے میں عام لوگوں کو اپنی کارروائی کا نشانہ بنا یا تھا۔

جس کے نتجے میں 6 افراد ہلا ک ہوئے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں لیکن حکومت نے تا حال اسکی تصدیق نہیں کی ہے۔

اسی بارے میں
بلوچستان میں تشدد جاری
15 October, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد