قاتل چیتا عمر بھر کے لیئے محفوظ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد میں گلیات کے پہاڑی علاقے میں گزشتہ برس ایک عمر رسیدہ چیتے نے ٹوٹے دانتوں اور ٹوٹے پنجوں کے باوجود کچھ ہی عرصے میں چھ عورتوں کا شکار کر ڈالا اور علاقے کو خوف اور دہشت میں ڈال دیا۔ گھنے جنگلات پر مشتمل اس علاقے میں لوگوں کو معلوم نہیں پڑ رہا تھا کہ آخر یہ پر اسرار قاتل ہے کون۔ پولیس کے علاوہ محمکہ جنگلی حیات کے لوگ بھی بلوائے گئے جس کے نتیجے میں یہ قاتل چیتا گزشتہ برس جولائی میں بالآخر مارا گیا۔ اس قیمتی چیتے کو ضائع ہونے سے بچانے کی خاطر صوبہ سرحد کے محکمہ جنگلی حیات نے اسے حنوط کر کے تمام عمر کے لیئے محفوظ کر لیا ہے۔ اب یہ حنوط شدہ چیتا محکمہ جنگلی حیات کے پشاور میں پہلے سے حنوط شدہ جانوروں کے عجائب گھر میں ایک نیا اضافہ ہے۔ محمکہ کے حنوط کار عبدالرحمان نے بتایا کہ بڑے جانور کو حنوط کرنا کافی مشکل ہوتا ہے کیونکہ ایک تو اس کی جلد موٹی ہوتی ہے جس سے سلائی میں دقت پیش آتی ہے جبکہ اس کا فریم تیار کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب اس حنوط شدہ چیتے کو کبھی کچھ نہیں ہوگا کیونکہ اسے کیمیکل لگا دئیے گئے ہیں جبکہ اس کا کروم بھی ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسے حنوط کرنے میں بیس پچیس روز کا وقت لگا۔ اس بارہ تیرہ سالہ چیتے کی آنکھیں اور زبان نقلی ہیں اور یقیناً دانت اور پنجے بھی۔ دانت اور پنجے تو تھے نہیں تو حنوط کیا ہوتے لیکن آنکھیں اور زبان میں پانی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لہذا انہیں حنوط نہیں کیا جاسکتا۔ محکمہ جنگلی حیات کے ضلعی فارسٹ افسر سید مبارک علی شاہ سے دریافت کیا کہ اسے حنوط کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ ان کا مقصد اسے ضائع ہونے سے بچانا تھا تاکہ لوگ اسے دیکھ سکیں اور اپنی معلومات میں اضافہ کر سکیں۔ محکمے نے اس گلدار نسل کے چیتے کا دلچسپ نام ’گلیات کا بھوت’ رکھا ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ گلیات کے لوگ اس چیتے کو اس کی خونی وارداتوں کے دوران کوئی بھوت سمجھتے تھے۔ بلی کے خاندان سے تعلق رکھنے والے اس چیتے کی کھال کی رنگت سنہری یا زردی مائل سلیٹی ہوتا ہے۔ اس پر گلدار سیاہ دھبے کافی نمایاں ہوتے ہیں۔ اس طرح یہ قدرتی ماحول کی خوبصورتی یعنی یہ چیتا اب ایک عجائب گھر کی زینت بن گیا ہے۔ | اسی بارے میں گلگت سے نیویارک چڑیاگھر تک08 August, 2006 | پاکستان چیتا زندہ پکڑا گیا23 June, 2006 | پاکستان عورتوں کے دشمن چیتے کی تلاش 09 July, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||