گلگت سے نیویارک چڑیاگھر تک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان سے ایک برفانی تیندوے کو امریکہ منتقل کیا جا رہا ہے۔ لیو نامی یہ نایاب نسل کا برفانی چیتا گزشتہ سال چودہ جولائی کوگلگت کی وادی نالتر میں ایک چرواہے کو ملا تھا جس نے اسے ورلڈ وائلڈ فنڈ کے حوالے کر دیا تھا۔ اس چیتے کی اس وقت عمر سات ہفتے تھی اور اب جب اسے نو اگست کو نیویارک منتقل کیا جا رہا ہے تو اس کی عمر تیرہ ماہ ہے جبکہ وزن پچیس کلو گرام اور قد اکیس انچ ہے۔ لیو کے لیئے امریکہ کے برانکس چڑیا گھر میں خصوصی طور پر مسکن تیار کیا گیا ہے لیو کی محفوظ طریقے سے منتقلی کے لیئے برانکس چڑیا گھر کے ماہرین کی ایک ٹیم بھی پاکستان پہنچ چکی ہے، جو بدھ کے روز لیو کو اپنے ساتھ امریکہ لے جائےگی۔ ماحولیات کے عالمی ادارے آئی یو سی این کے مطابق برفانی چیتوں کا شماران جانوروں میں ہوتا ہے جو ناپید ہوتے جا رہے ہیں۔ دنیا میں ان کی آبادی بمشکل دس ہزار تک ہے، جس میں سے پاکستان تین سو برفانی چیتوں کا مسکن ہے۔ آئی سی یو این کے ماہرین کا کہنا ہے کہ برفانی چیتے کی نسل میں کمی کے اسباب میں مویشیوں کی چراگاہوں میں اضافہ، ان کےرہائشی علاقوں میں کمی، مناسب شکار کے جانوروں کی آبادی میں کمی، ادویات کی تیاری کے لیئے اس کے جسمانی اعضاء کی غیر قانونی تجارت اور کھال کے لیئے اس کا شکار شامل ہیں۔ ماحولیات کے عالمی ادارے کے مطابق برفانی چیتے عام طور پراٹھارہ سے بائیس مہینے کی عمر تک ماں کے ساتھ رہتے ہیں اور اپنے مسکن میں انتہائی صورتحال میں زندہ رہنے کی تمام مہارتیں سیکھ لیتے ہیں۔ لیو چونکہ دو ماہ کی عمر سے مکمل طور پر انسانوں پر انحصار کررہا ہے اس لیئے اسے جنگل میں آزاد چھوڑنا عملی طور پر ممکن نہ تھا۔ آئی یو سی این کا کہنا ہے کہ امریکہ میں خصوصا برانکس کے چڑیا گھر میں برفانی چیتوں کے لیئے جدید سہولیات موجود ہیں، اس لیئے اسلام آباد میں امریکی سفارتخانہ کو اس معاملے سے آگاہ کیا گیا اور بالآخر لیو کو امریکہ بھیجنے میں کامیابی حاصل ہوگئی۔ | اسی بارے میں چیتا زندہ پکڑا گیا23 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||