عورتوں کے دشمن چیتے کی تلاش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے شمالی علاقے ہزار میں پولیس کہ انہوں نے اس چیتے کی تلاش میں پولیس کمانڈوز کو روانہ کیا ہے جس نے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران چھ عورتوں کو ہلاک کیا ہے۔ چیتے کے ہاتھوں ہلاکتوں کا یہ سلسلہ ایبٹ آباد کے قریب پہاڑی علاقوں کے گھنے جنگلات میں شروع ہوا ہے۔ تازہ واقعے میں کل ایک عورت چیتے کا شکار بنی ہے۔ مقامی پولیس کے مطابق اب تک اس چیتے نے چھ عورتوں کو جوکہ جنگل میں لکڑیاں چن رہی تھیں ہلاک کیا ہے۔ یہ ہلاکتیں بکوٹ، میرپور، نواشہر اور بگنوتر میں پیش آئی ہیں۔ ایبٹ آباد کے ضلعی پولیس افسر فیروز شاہ نے بتایا کہ علاقے میں پولیس کمانڈوز کو جن کہ پاس بےہوش کرنے والے انجکشن ہیں علاقے میں تعینات کیا گیا ہے۔ انہوں نے مقامی آبادی کو فل الحال گھنے جنگلات میں جانے سے بھی منع کیا ہے۔ ان واقعات سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ ابھی یہ واضع نہیں کہ یہ ہلاکتیں ایک ہی تیندوے کا کام ہے یا مختلف کا۔ اس علاقے میں محدود تعداد میں تیندوے پائے جاتے ہیں۔ ادھر شمالی ضلع چترال سے خبر ہے کہ مارخور کا غیرقانونی شکار کرنے والے دو شخص کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ ہلاک کیا جانے والا جانور بھی برآمد کر لیا ہے۔ ایک مارخور کی ٹافی ہنٹنگ میں قیمت پینتالیس ہزار ڈالر ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||