ثقلین کا بیان، جمالی کا رد عمل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی ہاکی فیڈریشن کے صدر میر ظفر اللہ جمالی کا کہنا ہے کہ نظم و ضبط پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا اور کسی کھلاڑی کو متنازعہ بیان دینے کی اجازت نہیں۔ عالمی کپ ہاکی میں پاکستان کی چھٹے نمبر پر آنے والی ٹیم کے کپتان محمد ثقلین کے اس بیان کے بعد کہ پاکستان کے کوچ بہتر نہیں اور ٹیم کو غیر ملکی کوچ کی ضرورت ہے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر نے منگل کو لاہور کے نیشنل پاکی سٹیڈیم میں پاکستان کی ہاکی ٹیم سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد میر ظفر اللہ جمالی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا کھلاڑیوں سے ملنے کا ایک مقصد تو عالمی کپ میں پاکستان کی ٹیم کی کارکردگی کا جائزہ لینا تھا اور دوسرا مقصد کچھ بیانات ایسے آئے تھے جن کا ازالہ کرنا ضروری تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے سابق المپئینز کو بھی بلوایا تھا تاکہ دو ماہ بعد دوہہ میں ہونے والے ایشین گیمز کی تیاری کے لیئے لائحہ عمل بنایا جا سکے۔ پاکستان کی ٹیم کے کپتان محمد ثقلین کے بیان کی بابت ہاکی فیڈریشن کے صدر کا مؤقف تھا کہ نظم و ضبط پر کوئی سمجھوتا ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ثقلین پاکستان کی ہاکی کا والی وارث نہیں ہے اس نے ایک بیان دیا تھا جس پر اس نے معافی مانگ لی بات ختم لیکن میں نے کھلاڑیوں کو باور کرا دیا ہے کہ اگر آئندہ سے کسی نے ایسی بیان بازی کی تو اس کو فارغ کر دیا جائے گا۔ میر ظفر اللہ جمالی نے کہا کہ انہوں نے ایشین گیمز کے لیئے کوچ کا فیصلہ ابھی تک نہیں کیا۔ محمد ثقلین کو کپتان برقرار رکھنے کی بابت ہاکی فیڈریشن کےصدر نے کہا کہ ٹیم کے کپتان کا فیصلہ بھی ایشین گیمز کے لیئے لگنے والے کیمپ اور اس میں ہونے والے ٹرائلز کے بعد ہی کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی کھلاڑی کو جبری ریٹائر نہیں کیا جائے گا چاہے وہ سینیئر ہو یا جونیئر جب تک کہ اس کھلا ڑی کی کارکردگی خراب نہ ہو۔ |
اسی بارے میں ’غیرملکی کوچ کی خدمات نا گزیر‘21 September, 2006 | کھیل شہناز شیخ ہی نئے ہاکی کوچ ہوں گے20 September, 2006 | کھیل ورلڈ کپ: پاکستان کی چھٹی پوزیشن17 September, 2006 | کھیل شہناز شیخ ہاکی ٹیم کے نئے کوچ05 August, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||