BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 31 August, 2006, 10:00 GMT 15:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مری رہائشی عمارت تباہ، تین ہلاک
ایک خاندان کے افراد تاحال ملبے میں دبے ہوئے ہیں۔
صوبہ پنجاب کے تفریحی مقام مری میں زمین بوس ہونے والی آٹھ منزلہ عمارت کے ملبے سے تین لاشیں نکال لی گئی ہیں جبکہ اطلاعات کے مطابق متعدد افراد اب بھی ملبے میں پھنسے ہوئے ہیں۔

سمر اپارٹمنٹ نامی اس کثیر المنزلہ عمارت کے ملبے تلے دب کر ہلاک ہونے والے افراد میں عمارت کے مالک اورنگزیب عباسی، ان کی اہلیہ اور بیٹا شامل ہیں۔

منہدم شدہ عمارت کے ملبے سے اورنگزیب عباسی کی بیٹی کو پہلے ہی زندہ نکالا جا چکا ہے اور انہیں مری کے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

اطلاعات کےمطابق عمارت کے منہدم ہونے کا واقعہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب مقامی وقت کے مطابق تین بجے پیش آیا۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ عمارت کا چوکیدار اور سیاحت کے لیئے مری آنے والے ایک خاندان کے افراد تاحال ملبے میں دبے ہوئے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان کے مطابق پاک فوج کے جوان جائےحادثہ پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں جبکہ ملبہ ہٹانے کے لیئے ایک کرین بھی موقع پر پہنچا دی گئی ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مری میں ایک ہیلی کاپٹر بھی موجود ہے جو ممکنہ شدید زخمیوں کو راولپنڈی پہنچانے کے لیئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ترجمان نے مزید بتایاہے کہ ملبے میں ایک اندازے کے مطابق دبے افراد میں سے کم از کم تین نے اپنے موبائل فونوں کے ذریعے رابطہ کر کے بتایا ہے کہ وہ زندہ ہیں۔

عمارت کےگرنے کی اصل وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی ہے تاہم ٹی ایم اے مری کے حکام کے گزشتہ برس آٹھ اکتوبر کو آنے والے زلزلے کے بعد دراڑیں پڑنے کی وجہ سے مطابق اس عمارت کو مخدوش قرار دیتے ہوئے گرانے کا نوٹس دے دیا گیا تھا۔

پاکستان کے شمالی علاقہ جات اور کشمیر میں گزشتہ برس آنے والے زلزلے سے ان علاقوں کے انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا تھا اور مکمل تباہی سے بچ جانے والی عمارتوں کی ایک بڑی تعداد کو رہائش کے لیئے ناموزوں قرار دیتے ہوئے گرانے کا حکم دیا گیا تھا تاہم عمومی طور پر ان عمارتوں کے مالکان نےمعمولی مرمت کروانے کے بعد ان کی رہائشی حیثیت بحال رکھی تھی۔

اسی بارے میں
210 قدیم عمارتیں گر سکتی ہیں
20 October, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد