BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 14 November, 2005, 16:18 GMT 21:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلند عمارتوں کیلیے سرٹیفیکیٹ لازمی

مارگلہ ٹاور
زلزلے سے اسلام آباد کے مارگلہ ٹاور کے دو بلاک منہدم ہو گئے تھے
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی تمام کثیر المنزلہ عمارتوں کے مالکان کو اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے سی ڈی اے کی طرف سے نوٹس جاری کیے گئے ہیں کہ وہ کسی بھی بڑی تعمیراتی کمپنی سے زلزلے کے بعد اپنی عمارت کے محفوظ ہونے کا سرٹیفیکٹ حاصل کریں۔

سی ڈی اے کے بلڈنگ کنٹرول کے ڈائریکٹر غلام مرتضیٰ ملک نے بتایا کہ جن عمارتوں کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں ان میں پاکستان ٹیلی ویژن کی عمارت کے علاوہ کئی سرکاری عمارتیں بھی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں دو درجن کے قریب کثیرالمنزلہ عمارتوں میں سے صرف دو نے عمارت کے مکمل ہونے کا کمپلیشن سرٹیفکیٹ حاصل کیا ہے جبکہ باقی کسی عمارت نے ایسا سرٹیفیکٹ حاصل نہیں کیا۔ غلام مرتضی ملک نے کہا کہ ان میں سے بیشتر عمارتوں میں زلزلے سے دراڑیں آئی ہیں۔

دارالحکومت کے ترقیاتی ادارے نے دو زیرِ تعمیر عمارتوں میں جاری کام بھی فوری طور پر رکوانے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ ان عمارتوں پر تعمیراتی کام کو بند کرنے کے حکم کے ساتھ سی ڈی اے نے کہا ہے کہ ان عمارتوں پر اس وقت تک کام نہیں کیا جائے جب تک سی ڈی اے تعمیر کے نئے قواعد و ضوابط وضع نہیں کر لیتی۔

سی ڈی اے کے قوانین کے مطابق ہر عمارت کی تعمیر مکمل ہونے پر کمپلیشن سرٹیفیکٹ حاصل کرنا ضروری ہے۔ سی ڈی اے کے انجینئر تعمیر کے مکمل ہونے پر عمارت کا معائنہ کر کے تعمیری میٹریل اور تعمیری معیار کے بارے میں سرٹیفیکٹ جاری کرتے ہیں۔

اسی بارے میں
سیکریٹیریٹ میں دراڑیں
08 October, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد