لاہور: مکان گرنے سے چار ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور کے اندرون شہر میں ایک بوسیدہ مکان منہدم ہونے سے اس میں رہنے والے چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ گزشتہ ایک ماہ میں لاہور میں پرانی عمارتیں گرنے سے ہونے والی ہلاکتوں کا یہ دوسرا بڑا واقعہ ہے۔ اس سے قبل بیس جولائی کو اسلام پورہ میں ایک تین منزلہ عمارت گرنے سے تین افراد ہلاک ہوئے تھے۔ سوموار کی صبح لاہور کے کشمیری بازار میں ایک تین منزلہ مکان کی بالائی چھت گرنے سے سب سے نچلی منزل میں سوئی ہوئی دو عورتیں اور دو کم سن بچیاں ہلاک ہوگئیں۔ اہل محلہ کے مطابق مکان بوسیدہ حالت میں تھا۔ ہلاک ہونے والوں میں ساٹھ سالہ شمیم بی بی، پینتیس سالہ منور بی بی اور ان کی دو کم سن بیٹیاں رقیہ اور ماہ نور شامل ہیں۔ ایک بچی کو ملبہ سے زندہ نکال لیا گیا جو معمولی زخمی ہوئی۔ لاہور کی ضلعی حکومت نے اس سال جولائی میں شہر بھر کے مختلف علاقوں میں تقریباً پندرہ سو عمارتوں کو بوسیدہ اور خطرناک قرار دیا تھا جن میں سے تقریباً تین سو عمارتیں بہت زیادہ خطرناک قرار دی گئی تھیں اور ان میں سے زیادہ تر اندرون شہر میں واقع ہیں جہاں آج ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ ضلعی حکومت نے ان عمارتوں کے مکینوں کوان عمارتوں کو خالی کرنے یا مرمت کروانے کے نوٹس جاری کیئے تھے تاہم بوسیدہ عمارتوں میں رہنے والوں اوران کی مرمت نہ کرانے والوں کے خلاف کوئی قانونی کاروائی نہیں کی گئی۔ ان خطرناک عمارتوں میں رہنے والے اکثر مکین غربت اور کم آمدن کے باعث ان کو نہ تو خالی کرتے ہیں نہ مرمت کرواتے ہیں۔ گزشتہ سال اکتوبر میں اندرون شہر کے گوالمنڈی کے علاقہ میں ایک بوسیدہ عمارت گرنے سے تین افراد ہلاک ہوئے تھے۔ | اسی بارے میں لاہور میں بارش، چھ ہلاک 25 July, 2006 | پاکستان تودہ گرنے سے بارہ ہلاک، دس لاپتہ03 July, 2006 | پاکستان الفلاح بلڈنگ کی تیسری منزل راکھ 08 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||