بلوچستان میں یوم آزادی پر دھماکے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ بلوچستان کے شہر حب رکھنی اور نوشکی میں آج یوم آزادی کے دن دھماکے ہوئے ہیں جس میں تین افراد ہلاک اور کم سے کم گیارہ زخمی ہوئے ہیں۔ ادھر ڈیرہ بگٹی اور سوئی سے مسلح بگٹی قبائلیوں نے گیس پائپ لائن اڑانے اور مختلف مقامات پر حملوں کے دعوے کیے ہیں اور سوئی میں آج کافی عرصہ کے بعد جشن آزادی منائی گئی ہے۔ کوئٹہ سے کوئی ساڑھے چھ سو کلومیٹر دور حب شہر میں آج صبح جشن آزادی کے لیے فروخت کیے جانے والے پرچموں اور بیجز کے ہتھ گاڑیوں کے قریب زور دار دھماکہ ہوا ہے جس میں دو افراد ہلاک اور کم سے کم چار زخمی ہوئے ہیں۔ آج صبح یہاں سے کوئی ایک سو بیس کلومیٹر دور نوشکی شہر میں ایک حجام کی دکان میں دھماکے سے چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اس دکان میں صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے لوگ کام کرتے ہیں۔
دریں اثنا ایک نا معلوم شخص نے ٹیلیفون پر اپنا نام آزاد بلوچ بتایا ہے اور کہا ہے کہ وہ حب نوشکی اور کل رات کوئٹہ میں ہونے والے دھماکوں کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کی طرف سے قبول کرتا ہے۔ ادھر لورالائی سے مقامی صحافی امانت حسین نے بتایا ہے کہ شام کے وقت رکھنی بازار میں زور دار دھماکہ ہوا ہے جس میں ایک شخص ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔ آج کوئٹہ اور تربت میں لوگوں نے بلوچستان میں فوجی کارروائی اور غیر قانونی حراستوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ تربت سے بلوچستان نیشنل موومنٹ کے سربراہ غلام محمد بلوچ نے کہا ہے کہ ان کے جدوجہد حقوق کے حصول تک جاری رہے گی۔ ماہر تعلیم مصری خان اور دیگر لوگوں کی رہائی کے لیے آج کوئٹہ پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا گیا جس میں غیر قانونی طور پر زیر حراست لوگوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ادھر ڈیرہ بگٹی سے مسلح بگٹی قبائلیوں کے ترجمان نبی بخش بگٹی نے کہا ہے کہ سوئی کشمور روڈ پر پرانی لیویز چوکی پر حملہ کیا گیا ہے جبکہ سوئی میں گیس کے تین کنووں کی مشترکہ لائن کو دھماکے سے اڑایا گیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ سنگسیلہ روڈ پر بارودی سرنگ کے پھٹنے سے ایک شخص ہلاک اور ایک زخمی ہوا ہے اور پیش بوگی کے مقام پر بجلی کے کھمبوں پر حملے کیے گئے ہیں۔ سوئی سے مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ کل رات کوئی نو دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں لیکن کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ سرکاری سطح پر ان واقعات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ صوبائی وزیر داخلہ شعیب نوشیروانی اور انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور شجاعت ضمیر ڈار نے ڈیرہ بگٹی میں جشن آزادی کی تقریب میں شرکت کی اور کہا کہ اس علاقے میں پہلی مرتبہ اس طرح جشن آزادی منائی جا رہی ہے۔ شہر میں پاکستان کے پرچم لہرائے گئے تھے اور صدر جنرل پرویز مشرف کی تصویریں آوایزاں کی گئی تھیں۔ | اسی بارے میں ایران کی پاکستان کو یقین دہانی08 August, 2006 | پاکستان کوہلومیں دھماکہ، 3 فوجی ہلاک30 July, 2006 | پاکستان بلوچستان: حکومت کی ’نظرِ کرم‘26 July, 2006 | پاکستان ’500 بگٹیوں نے ہتھیار ڈال دیے‘21 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||