تیسری آگسٹا آبدوز بحریہ کے حوالے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانس کے تعاون سے تیار کی گئی آگسٹا سیریز کی تیسری آبدوز حمزہ جمعرات کو پاکستان کی بحری فوج کے حوالے کی گئی ہے۔ اس سیریز کی دو آبدوزیں پہلے ہی پاک بحریہ کے حوالے کی جاچکی ہیں۔ حمزہ آبدوز کی لمبائی چوہتر فٹ جبکہ وزن دو ہزار ٹن ہے۔ یہ ساٹھ روز تک زیر آب رہ سکتی ہے جبکہ اس کی رینج دس ہزار ناٹیکل میل ہے۔ حمزہ آبدوز بحریہ کی حوالے کرنے کے لیئے ہونے والی تقریب میں صدر جنرل پرویز مشرف نے شرکت کی۔ انہوں نے اس موقعے پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دفاع کے لیئے خود انحصاری کی پالیسی پر عمل درآمد جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امن طاقت سے قائم ہوتا ہے کمزوری سے نہیں۔ واضح رہے کہ آگسٹا آبدوز کی تیاری کے منصوبے پر فرانس کے ساتھ بینظیر بھٹو کے دورِ حکومت میں دستخط کیا گیا تھا۔ ٹیکنالوجی کی منتقلی کے تحت ہونے والے اس معاہدے کی مالیت ایک بلین ڈالر تھی۔ پاکستان بحریہ کی آبدوزوں کی تیاری کے شعبے کے سربراہ کموڈور حسن ناصر شاہ کا کہنا ہے کہ پاکستانی بحریہ موجودہ ٹیکنالوجی کے ساتھ ملک میں ہر سال دو آبدوزیں تیار کر سکتی ہے۔ انہوں نے ایک نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان آگسٹا 90 بی کلاس آبدوز پی این ایس حمزہ تیار کرنے کے بعد آبدوزوں اور بحری جہازوں کو بنانے کے ایک نئے دور میں داخل ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ آبدوزیں جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم اور ہتھیاروں سے لیس ہیں اور طیارہ شکن میزائل اور مختلف اقسام کے تارپیڈو چلانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ واضح رہے کہ یہ آگسٹا آبدوز مکمل طور پر پاکستان میں بنائی گئی ہیں۔ ان کی تیاری کے لیئے آنے والے فرانسیسی انجینئرز پر سن دو ہزار دو میں ایک خودکش حملہ کیا گیا تھا جس میں گیارہ فرانسیسی ہلاک ہوگئے تھے۔ | اسی بارے میں پاکستان: کروز میزائل کا تجربہ21 March, 2006 | پاکستان پاکستان کو ’ایف سولہ ملیں گے‘31 July, 2005 | پاکستان ایڈمرل منصور الحق بری04 March, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||