ایڈمرل منصور الحق بری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاک بحریہ کے سابق سربراہ ریٹائرڈ ایڈمرل منصورالحق اور پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے ایک سابق اہلکار کو سندھ ہائی کورٹ نے جمعرات کے روز بدعنوانی کے مقدمات سے بری کردیا ہے۔ ایڈمرل منصور الحق پر الزام تھا کہ انہوں نے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کے لئے سن انیس سو پچانوے میں تین جہازوں کی خریداری میں حکومت کو ایک ارب پچاسی کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا تھا۔ منصور الحق اور اور پی این ایس ای کے سابق ڈپٹی ڈائریکٹر کو ایک ماتحت عدالت نے بدعنوانی کے الزام میں سات سال قید بامشقت اور بیس بیس لاکھ جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ ان دونوں نے اس سزا کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں اپیل کی تھی جس نے ان کی سزا ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایڈمرل منصور الحق کو بدعنوانی کے الزام میں پاک بحریہ سے ریٹائر کردیا گیا تھا۔ ان پر آبدوزوں کی خریداری میں بھی ایک کثیر رقم خرد برد کرنے کا الزام تھا۔ وہ کافی عرصے بیرون ملک مقیم رہے اور پچھلے سال ہی انہیں گرفتار کرکے پاکستان لایا گیا اور احتساب بیورو نے ان سے پینتالیس کروڑ پچھتر لاکھ روپے وصول کرکے انہیں رہا کردیا تھا۔ تاہم رہائی کے کچھ دن بعد انہیں جہازوں کی خریداری میں بدعنوانی کا مرتکب ہونے کے الزام میں ایک بار پھر گرفتار کرکے سات سال قید بامشقت اور بھاری جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔ تاہم اب انہیں ان مقدمات سے بری کردیا گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||