BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 03 August, 2006, 10:24 GMT 15:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سندھ بارش:65 ماہی گیر لاپتہ

سندھ میں بارشیں
بارش سے متاثرہ خواتین
پاکستان کے جنوب مشرقی صوبہ سندھ میں گزشتہ پانچ روز سے جاری موسلا دھار بارش کی وجہ سے ساحلی علاقوں میں رہنے والوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

پانچ روز کی بارشوں سے پینسٹھ ماہی گیر لاپتہ جبکہ پچاس افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

مسلسل بارش اور طوفانی ہواؤں کی وجہ سے سمندر میں طوفانی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔ ٹھٹہ اور بدین کے کئی دیہات سمندر کے پانی سے زیر آب آ گئے ہیں۔

دو برس قبل شدید بارش اور سمندر میں طوفان سے دونوں اضلاع میں کئی علاقے بری طرح متاثر ہوئے تھے۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد ہلاک بھی ہوئی تھی۔ اس وجہ سے لوگ ڈرے ہوئے ہیں اور انہوں نے نقل مکانی شروع کر دی ہے۔

سیم کا پانی سمندر میں پھینکنے کے لئے بنائِے گئے ایل بی او ڈی نالے نے الٹا بہنا شروع کر دیا ہے۔

محکمہ موسمیات کی جانب سے بارش کا سلسلہ جاری رہنے کی پیشن گوئی کے بعد ماہی گیروں کو سمندر میں جانے سے روکا دیا گیا ہے۔ اس فیصلے پر سختی سے عمل درآمد کے لیئے فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی نے لانچوں کے سمندر میں جانے کے اجازت نامے دو روز کے لیئے منسوخ کردیئے ہیں۔

پاکستان فشر فوک کے رہنما سامی میمن کا کہنا ہے کہ ساحلی علاقوں میں بارش نے شدید نقصان پہنچایا ہے اور لوگ نقل مکانی کرکے محفوظ مقامات کی طرف جا رہے ہیں۔

انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت ساحلی علاقے کے پینسٹھ سے زائد ماہی گیر لاپتہ ہیں۔ یہ لوگ بارش سے سے پہلے سمندر میں مچھلی کے شکار کے لیئے گئے تھے تاہم ان سے کوئی رابطہ نہیں ہوسکا ہے۔

فشر فوک کے ذرائع کے مطابق یہ لوگ بھارتی سرحد کے پاس ہرامی ڈھورو اور سر کریک کے علاقے سے لاپتہ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سمندر میں جانے پر پابندی بعد میں عائد کی گئی تھی یہ ماہی گیر اس سے قبل روانہ ہوچکے تھے۔

کوہستان اور کاچھو کے علاقوں میں شدید بارش اور بلوچستان کے پہاڑوں سے آنے والے برساتی ریلے کی وجہ سے ندیوں نالوں میں پانی بھر گیا ہے۔ اس سے ان علاقوں کا شہروں سے زمینی رابطہ منقطع ہے۔ ان علاقوں میں رہنے والے محفوظ مقامات پر منتقل ہوگئے ہیں جبکہ دادو جوھی سڑک ٹریفک کے لیئے بند ہے۔

dhabeji bridge
بارشوں سے پلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

پانچ دن سے جاری بارش میں پچاس سے زائد اب تک افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
جن میں سب سے زیادہ لوگ برساتی نالوں میں ڈوب کر ہلاک ہوئے ہیں۔

بڑے پیمانے پر زرعی زمین زیر آب آنے کی وجہ سے کاشتکاروں کو نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ کپاس،گنے اور کیلے کی فصلیں متاثر ہوئی ہیں۔ کئی کچے گھر منہدم ہوگئے ہیں۔

کہیں اگر تباہی آئی ہے تو کہیں یہ بارشیں رحمت بھی ثابت ہوئی ہیں۔ سندھ کے صحرائی علاقے تھر میں بارش کی وجہ سے لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ بارش کے بعد قحط سے متاثرہ اس علاقے میں زندگی کی رونقیں لوٹ آئی ہیں۔

اسی بارے میں
بارشیں رحمت یا زحمت!
28 July, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد