BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 27 July, 2006, 06:12 GMT 11:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بگٹی کی حمایت پر گرفتاری‘

رینجرز کے اہلکار(فائل فوٹو)
رینجرز کے اہلکاروں نے اس آپریشن میں پولیس کی مدد حاصل نہیں کی(فائل فوٹو)
بلوچستان سے ملحقہ پنجاب کے نیم قبائلی ضلع ڈیرہ غازی خان میں رینجرز نے بدھ کوگورچانی قبیلے کی سرکردہ شخصیت پرویز اقبال خان کو حراست میں لے لیا ہے۔

ان پر مبینہ طور پر نواب اکبر بگٹی کی مدد کرنے کا الزام ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق نیم فوجی ادارے کے درجنوں اہلکاروں نے ڈیرہ غازی خان شہر کے بلاک اٹھارہ میں واقع ’گورچانی منزل‘ کو بدھ کی شام کے وقت گھیرے میں لے لیا جس سے اردگرد رہنے والے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ ’فوجی آپریشن‘ کا منظر دیکھنے کے لیئے بھاری تعداد میں لوگ اکھٹے ہو گئے۔

بتایا جاتا ہے کہ رینجرز کے اہلکاروں نے گورچانی منزل سے ملحقہ ایک مسجد اور مکانات کی چھتوں پر چڑھ کر پوزیشنیں بھی سنبھال لیں جس کے بعد پرویز گورچانی کو ان کے گھر سے باہر بلایا گیا اور حراست میں لے لیا گیا۔

رات گئے تک پرویزگورچانی ڈیرہ غازی خان کے’سرکٹ ہاؤس‘ میں رینجرز کی حراست میں تھے۔ گورچانی منزل ڈیرہ کے سول لائنز پولیس سٹیشن کی حدود میں آتی ہے لیکن عینی شاہدین کے مطابق پرویز گورچانی کو جب حراست میں لیا گیا اس وقت رینجرز کے ساتھ پولیس کا کوئی اہلکار موجود نہیں تھا۔

پرویز کا تعلق راجن پور کے بلوچ قبیلے گورچانی کے سردار گھرانے سے ہے اور وہ ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے بلوچستان کے علاقوں بارکھان اور ڈیرہ بگٹی سے ملحقہ قبائلی پہاڑی علاقے میں قانون کی عملداری کے لیئے قائم بارڈر ملٹری پولیس میں ایک اعلیٰ عہدے پر بھی فائز ہیں۔

پچھلے برس ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں انہوں نے راجن پور میں سابق صدر فاروق لغاری اور سابق نگران وزیر اعظم میر بلخ شیر مزاری کے مشترکہ امیدواروں کے مقابلے میں قومی اسمبلی میں حکومتی مسلم لیگ کے چیف وہپ سردار نصراللہ دریشک اور شیر علی مزاری کے امیدواروں کی کامیابی میں ایک اہم کردار ادا کیا تھا۔

شیر علی مزاری سنیئر سیاستدان شیر باز خان مزاری کے بیٹے اور نواب اکبر بگٹی کے بھانجے ہیں اور ان کا نام ان لوگوں کی فہرست میں شامل ہے جن پر اس الزام کے تحت حکومت نے بیرون ملک سفر پر پابندی لگا رکھی ہے کہ وہ بلوچستان لبریشن آرمی نامی کالعدم علیحدگی پسند تنظیم کی پشت پناہی کرتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد