BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 25 July, 2006, 08:32 GMT 13:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مزدور کی ہلاکت، عدالت کا نوٹس

سپریم کورٹ
سپریم کورٹ نے پولیس سربراہ کو طلب کیا ہے
سپریم کورٹ نے کراچی پولیس کی حراست میں ایک مزدور کی ہلاکت اور بعد میں اسے ڈاکو قرار دینے کا ازخود نوٹس لیا ہے۔

عدالت نے آئی جی سندھ پولیس اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو اٹھائیس جولائی کو عدالت میں طلب کر لیا ہے۔

کراچی کی لیاری ٹاسک فورس کے سربراہ ایس پی چوہدری اسلم نے کراچی میں قتل اور اغوا سمیت کئی وارداتوں میں ملوث ڈاکو معشوق بروہی کو پولیس مقابلے میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ معشوق بروہی کی گرفتاری پر حکومت کی جانب سے چھ لاکھ روپے انعام بھی رکھا گیا تھا۔

اخبارات میں مرنے والے کی تصویر کی اشاعت کے بعد حیدرآباد کے قریبی علاقے کوٹری میں رہائش پذیر افراد نے پولیس کے دعویٰ کو رد کیا اور ہلاک شدہ شخص کی شناخت غلام رسول بروہی کے نام سے کی جو کراچی کے نواحی علاقے حب میں مزدور تھا۔

غلام رسول کی والدہ پٹھانی اور چچا غلام حسین کا کہنا ہے وہ جب لاش لینے کے لیئے پہنچے تو پولیس حکام نے یہ کہہ کر لاش دینے سے انکار کر دیا کہ اس کی شناخت معشوق بروہی کے نام سے کی جائے۔

اس پر مزدور کے اہلِ خانہ پچاس سے زائد پڑوسیوں اور رشتہ داروں کو لے کر پولیس کے پاس پہنچے جن سب کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والا معشوق نہیں بلکہ غلام رسول بروہی ہے۔

مقامی اخبارات میں اس معاملے کے سامنے آنے اور سیاسی جماعتوں کے دباؤ کے بعد پولیس نے پانچ دن بعد لاش ورثاء کے حولے کی۔ ورثاء کے مطابق غلام رسول پر بےانتہا تشدد کیا گیا تھا، اس کے ناخن کھینچے گئے تھے جبکہ دانت ٹوٹ چکے تھے اور جسم کو سگریٹ سے داغا گیا تھا۔

آئی جی سندھ نے حقائق جاننے کے لیئے پولیس کی ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بنائی جس نے اپنی رپورٹ میں ورثاء کے موقف کی تصدیق کی کہ ہلاک ہونے والا معشوق نہیں بلکہ غلام رسول بروہی تھا۔

پولیس نے پانچ دن بعد لاش ورثاء کے حوالے کی

پولیس رپورٹ کے بعد ورثاء نے سکرنڈ تھانے میں لیاری ٹاسک فورس کے سربراہ ایس پی چوہدری اسلم اور ان کے ٹیم کے خلاف قتل کے الزام میں مقدمہ بھی دائر کیا۔

آئی جی سندھ جہانگیر مرزا کا کہنا ہے کہ پولیس کی تحقیقاتی رپورٹ سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ ہلاک ہونے والا معشوق نہیں بلکہ غلام رسول بروہی تھا۔ اس لیئے ڈی این اے رپورٹ کی بھی ضرورت نہیں رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس افسران کے خلاف تحقیقات کے لیئے ڈی آئی جی کی سطح پر کمیٹی تشکیل دی جائےگی۔

غلام رسول بروہی کی والدہ پٹھانی اور چچا غلام حسین کا کہنا ہے کہ انہیں پچیس لاکھ روپے رشوت لینے کو کہا جارہا ہے مگر وہ ملزمان کو کسی صورت میں معاف نہیں کریں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد