BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 19 July, 2006, 20:23 GMT 01:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اراکین کے استعفے بےنظیر کے پاس
اگر حکومت ہمارے بغیر کوئی فیصلہ کرتی ہے تو اس کی کوئی وقعت نہیں ہوگی: امین فہیم
پی پی پی کے اراکین قومی اسمبلی نے لندن اجلاس میں پارٹی سربراہ بے نظیر بھٹو کو اپنے استعفے پیش کردیئے ہیں۔

بے نظیر بھٹو کی صدارت میں لندن میں ہونے والے اس اجلاس میں شرکت کے لیئے پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرینز کے اراکینِ قومی اسمبلی اور دیگر رہنما خصوصی طور پر یہاں آئے تھے۔

بی بی سی اردو سروس کے سہیل حلیم کو لندن اجلاس میں ہونے والے فیصلے کی تفصیل بتاتے ہوئے پارٹی کے سینیئر ترین رہنما مخدوم امین فہیم نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کو استعفیٰ پیش کرنا پارٹی کے پاس موجود کئی آپشنوں میں سے ایک ہے۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی کے پاس بہت سے کارڈز ہیں جنہیں وہ ضرورت کے مطابق استعمال کرے گی۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ استعفوں کو کب استعمال کیا جائے گا۔

’بے نظیر کے پاکستان واپس جانے کا فیصلہ ہوچکا ہے جس کا اعلان مناسب وقت پر کیا جائے گا‘

مخدوم امین فہیم نے کہا: ’فوجی حکومت پارلیمان کو کوئی اہمیت نہیں دیتی۔ آئندہ انتخابات کے لیئے ہمارا مطالبہ ہے کہ یہ منصفانہ، آزادانہ اور شفاف ہوں۔ اگر ایسا نہ ہوا تو ان انتخابات میں شرکت کا کوئی فائدہ نہیں۔ ایسی صورت میں ہم اپنے آپشنز استعمال کریں گے۔ ایسے ہی ایک آپشن کے طور پر پارٹی کے اراکین نے اپنی خوشی اور خواہش سے اور رضاکارانہ طور پر پارٹی کی سربراہ کو استعفے پیش کیئے ہیں۔‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے عندیہ دیا کہ انتخابات کے شیڈول کے اعلان کے بعد اراکینِ اسمبلی کے استعفوں کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ انتخابات کے اتنے نزدیک استعفے دینے سے حکومت پر کیا دباؤ باقی رہ جائے گا تو مخدوم امین فہیم نے کہا: ’اگر حکومت ہماری موجودگی کے بغیر کوئی اقدام کرتی ہے یا اسمبلی میں کوئی فیصلہ کرتی ہے تو اس کی کوئی وقعت نہیں ہوگی۔‘

استعفے بغیر کسی دباؤ کے
 اگر انتخابات آزادانہ اور منصفانہ نہ ہوئے تو ان میں شرکت کا کوئی فائدہ نہیں۔ ایسی صورت میں ہم اپنے آپشنز استعمال کریں گے۔ ایسے ہی ایک آپشن کے طور پر پارٹی کے اراکین نے اپنی خوشی اور خواہش سے اور رضاکارانہ طور پر پارٹی کی سربراہ کو استعفے پیش کیئے ہیں
مخدوم امین فہیم

اس سوال پر کہ حکومت کی طرف سے پہلے ہی ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ اگر پیپلز پارٹی نے استعفے دیئے تو نہ صرف ضمنی انتخابات کرائے جا سکتے ہیں بلکہ اسمبلی کی معیاد بھی بڑھائی جا سکتی ہے، امین فہیم نے کہا: ’یہ دھمکیاں ہیں۔ ایسے لوگوں کی دھمکیاں جو شکست خوردہ ہیں۔ جن کی کوئی ساکھ نہیں رہی اور جن کا مفاد تباہ حال قوم کی قسمت بہتر بنانے کی بجائے خود اپنے مفادات کو محفوظ کرنا ہے۔‘

پیپلز پارٹی کے رہنما کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت (جو اتحاد برائے بحالیِ جمہوریت کا حصہ ہے) دیگر جماعتوں سے رابطے میں ہے اور رہے گی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پارٹی کے وہ اراکین جو ویزے میں مشکلات کے سبب لندن نہیں پہنچ سکے، اپنے استعفے پارٹی کی سربراہ کو بعد میں بھجوا دیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد