پشاور: اراکین کی رکنیت بحال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پشاور ہائی کورٹ نے سینٹ کے انتخابات میں پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے اور ہارس ٹریڈنگ کے مبینہ الزامات میں پارٹی اور اسمبلی رکنیت سے معزول کئے جانے والے سابق صوبائی وزیر سمیت چھ ایم پی ایز کی اسمبلی رکنیت بحال کرنے کے احکامات جاری کردیئے ہے۔ عدالت نے سپیکر سرحد اسمبلی اور الیکشن کمیشن کے اقدام کو کالعدم قرار دیتے ہوئے استعفوں سے متعلق سپیکر بخت جہان خان کو انکوائری کرنے کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔ جسٹس اعجاز افضل خان اور جسٹس محمد رضاخان پر مشتمل پشاور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے کھیلوں کے سابق صوبائی وزیر راجہ فیصل زمان، ارکان اسمبلی مولانا دلدار ، ملک حیات، اقلیتی رکن گورسرن لعل، یاسمین خالد اور رخسانہ راز کی ایک جیسی دائر الگ الگ رٹ درخواستوں کی سماعت کی۔ عدالت عالیہ نے درخواستوں گزاروں اورسرکاری وکیل کے دلائل سننے کے بعد مختصر فیصلہ سنایا اور سابق صوبائی وزیر سمیت چھ ایم پی ایز کو اسمبلی رکنیت بحال کردی اور سپیکر سرحد اسمبلی کو استعفوں سے متعلق انکوائری کرنے کے احکامات جاری کردیئے۔ واضح رہے کہ پاکستان میں مارچ کے مہینے میں ایوان بالا یا سینٹ کے لئے انتخابات منعقد ہوئے تھے جس کے بعد مذکورہ اراکین اسمبلی پر ان کی پارٹیوں کی جانب سے پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کے استعفے سپیکر سرحد اسمبلی کو بھجوائے گئے تھے۔ | اسی بارے میں سینٹ قرعہ اندازی: کس نے کیا کھویا، کیا پایا03 January, 2006 | پاکستان وزراء سمیت آدھی سینٹ ریٹائر02 January, 2006 | پاکستان سینٹ کا الیکشن نہیں لڑیں گے17 April, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||