قاضی کے پاس ستّتر استعفے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حزب مخالف کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے سربراہ قاضی حسین احمد نے اتوار کے روز اپنی جماعت کے منتخب 77 اراکین پارلیمان سے استعفے لے لیے ہیں۔ جماعت اسلامی کے سرکردہ رہنما لیاقت بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کے قاضی حسین احمد کی سربراہی میں اجلاس منعقد ہوا جس میں ان کی پارٹی کے اراکین قومی و صوبائئ اسمبلی اور سینیٹرز شریک ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی جماعت کے انتیس ایم این ایز، پانچ سینیٹرز اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں تنتالیس اراکین ہیں اور تمام نے اپنے استعفے قاضی حسین احمد کے پاس جمع کرا دیئے ہیں۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ ابھی انہوں نے یہ طے نہیں کیا کہ کب اراکین باضابطہ طور پر پارلیمان سے مستعفی ہوں گے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں دیگر سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد آمریت کے خاتمے کے لیئے وہ اپنے استعفے پیش کر دیں گے۔ ان کے مطابق متحدہ مجلس عمل کی سپریم کونسل کے اجلاس میں فیصلہ ہوا تھا کہ مذہبی جماعتوں کے اتحاد میں شامل تمام جماعتوں کے سربراہ اپنی جماعت کی سطح پر مشاورت کر کے اپنے اراکین پارلیمان سے استعفے حاصل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے اس بارے میں پہل کی ہے اور اب وہ حزب مخالف کی دیگر جماعتوں سے بھی مشاورت کریں گے۔ واضح رہے کہ جماعت اسلامی کا یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب حزب مخالف کے ایک اور اتحاد اے آر ڈی کا مرکزی اجلاس لندن میں شروع ہوا ہے۔ اس اجلاس کی صدارت مشترکہ طور پر بینظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کر رہے ہیں۔
جماعت اسلامی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اے آر ڈی کے سرکردہ رہنماؤں سے پارلیمان سے مستعفی ہونے کے بارے میں پہلے ہی ابتدائی مشاورت کی تھی اور اب امکان ہے کہ شاید اے آر ڈی، کے رہنما بھی اس بارے میں غور کریں گے۔ حال ہی میں وزیر مملکت برائے اطلاعات طارق عظیم نے ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ حکومت کی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے رہنماؤں سے بات چیت چل رہی ہے جس کی دونوں جماعتوں نے سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت بوکھلا گئی ہے اور حزب مخالف کی جماعتوں میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کے لیے ایسے بیان دے رہی ہے۔ بعض اخبارات میں حکومتی ذرائع کے حوالے سے ایک خبر یہ بھی شائع ہوئی تھی کہ مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ حکمران مسلم لیگ کی موجودہ اسمبلیوں سے صدر جنرل پرویز مشرف کو دوبارہ صدر منتخب کرانے کے بارے میں بات چیت چل رہی ہے۔ کچھ سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر صدر جنرل پرویز مشرف نے موجودہ اسمبلیوں سے اپنے آپ کو دوبارہ صدر منتخب کرانے کا باضابطہ اعلان کیا تو اس وقت حزب مخالف کی تمام جماعتیں مستعفی ہونے کا فیصلہ کر سکتی ہیں۔ | اسی بارے میں گرینڈ الائنس کی تجویز پر غور02 July, 2006 | پاکستان ’میثاق جمہوریت امید کی کرن‘02 July, 2006 | پاکستان اے آر ڈی اور ایم ایم اے میں تعاون 12 June, 2006 | پاکستان پنجاب اسمبلی: الزامات و طعنے09 June, 2006 | پاکستان ایم ایم اے: اسمبلی کا بائیکاٹ29 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||