’ کوئی بیرونی مشورہ درکار نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی دفترِ خارجہ نے امریکی وزیرِ خارجہ کونڈلیزا رائس کے اس بیان پر سخت ردِ عمل کا اظہار کیا ہے جس میں انہوں نے پاکستان میں اگلے برس ہونے والے انتخابات کو شفاف اور منصفانہ بنانے پر زور دیا تھا۔ دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم کے مطابق حکومت نے شفاف اور منصفانہ انتخابات کرنے کا تہیہ کیا ہوا ہے اور اسے اس سلسلے میں کسی بیرونی مشورے کی ضرورت نہیں ہے۔ واضح رہے کہ امریکی وزیر خارجہ نے منگل کو اپنے مختصر دورہ پاکستان کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ انہوں نے صدر جنرل پرویز مشرف سے اگلے برس ہونے والے انتخابات سے متعلق بات کی ہے۔ تاہم پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق امریکی وزیر خارجہ نے صدر جنرل پرویز مشرف سے انتخابات کے سلسلے میں کوئی بات نہیں کی۔ ترجمان نے واضح کیا کہ کسی کو اس بارے میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیئے کہ پاکستان میں جمہوری عمل اور ادارے مضبوط ہیں اور اگلے برس ہونے والے انتخابات شفاف اور آزادانہ ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت کا تعلق پاکستانی عوام سے ہے اور پاکستان کو اس بارے میں کسی بیرونی مشورے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایک اور بیان میں پاکستانی دفتر خارجہ نے بھارت اور امریکہ کے درمیان جوہری معاہدے پر ایک بار پھر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے خطے میں عدم استحکام پیدا ہو گا اور امریکہ کو اس بارے میں پاکستان کے ساتھ بھی جوہری معاہدہ کرنا چاہیئے تھا۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان اس بارے میں کسی امتیازی رویے کو قبول نہیں کرے گااور غیر فوجی جوہری توانائی کے حصول کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ | اسی بارے میں کونڈولیزا رائس مشرف ملاقات آج27 June, 2006 | پاکستان افغان سرحد پر دس ہزار مزید فوجی27 June, 2006 | پاکستان سیکرٹری رائس پاکستان دورے پر27 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||