سعد رفیق کی ضمانت منظور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور ہائی کورٹ نے اس سال چودہ فروری کو پنجاب اسمبلی کوآگ لگانے کے مقدمہ میں ملزم مسلم لیگ (نواز) کے رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ تاہم کیمپ جیل میں قید رکن قومی اسمبلی چودہ فروری کے ہنگاموں سے متعلق دو دوسرے مقدمات میں ملزم ہونے کے باعث ابھی رہا نہیں ہوسکیں گے۔ سعد رفیق اور مقامی مسلم لیگی رہنما زعیم قادری سمیت چودہ افراد پر الزام تھا کہ انہوں نے چودہ فروری کو لاہور میں یورپی میڈیا میں شائع ہونے والے متنازعہ کارٹونوں کے حلاف احتجاج کے دوران میں پنجاب اسمبلی کو آگ لگانے کی منصوبہ بندی اور کوشش کی۔ یہ مقدمہ انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت قائم کیا گیا تھا جس میں خصوصی عدالت نے ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی تھی۔ آج پیر کے دن لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ کے ججوں جسٹس ایم بلال خان اور جسٹس نواز بھٹی نے پنجاب اسمبلی کے چودہ ملزمان کو پچاس پچاس ہزار کے مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دیا۔ رکن قومی اسمبلی پر ایک دوسرا مقدمہ چودہ فروری نگار سینما کو آگ لگنے میں ملوث ہونے کے الزام کے تحت قائم کیاگیاتھا جس میں ان کی ضمانت کی درخواست منگل کے روز ہائی کورٹ کا دو رکنی بینچ سنے گا۔ ان کے خلاف ایک تیسرا مقدمہ چودہ فروری کو لوئر مال لاہور پولیس اسٹیشن پر تور پھوڑ کرنے کے الزام میں درج کیا گیا تھا جس میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت آئندہ جمعرات کو ضمانت کی درخواست کی سماعت کرے گی۔ مسلم لیگ(نواز) کے ایک سو تیرہ کارکنوں کو چودہ فروری کے ہنگاموں میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ پارٹی کے رہنما اور وکیل رانا مشہود کے مطابق ان میں سے نواسی افراد اب بھی جیلوں میں بند ہیں اور ہر شحص تین تین چار چار مقدمات کا سامنا کرہا ہے۔ | اسی بارے میں تیسرے دن 3 ہلاک سو زخمی 15 February, 2006 | پاکستان لاہور کی ناکہ بندی، کرفیو کا سماں26 February, 2006 | پاکستان لاہور میں احتجاجی مظاہرے کی تیاریاں26 February, 2006 | پاکستان کارٹون احتجاج: ہڑتال، ٹرانسپورٹ بند03 March, 2006 | پاکستان قاضی حسین احمد کی نظر بندی ختم10 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||