BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 17 March, 2006, 17:31 GMT 22:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’امتیازی امریکی سلوک قبول نہیں‘

دفترِ خارجہ نے امریکہ اور بھارت کے درمیان جوہری شعبے میں تعاون پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
دفترِ خارجہ نے امریکہ اور بھارت کے درمیان جوہری شعبے میں تعاون پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
بھارت کوجوہری ٹیکنالوجی فراہم کرنے کے لیے امریکی کانگریس کی منظوری سے استثنیٰ حاصل کرنے پر صدر بش کی انتظامیہ کو خبردار کرتے ہوئے پاکستان نے کہا ہے کہ اس سے خطے کی سلامتی پر بہت سنگین اثرات مرتب ہوں گے اور پاکستان امریکہ کا امتیازی سلوک قبول نہیں کرے گا۔

جمعہ کی شام پہلی بار بش انتظامیہ کے خلاف دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے اس سخت بیان میں ترجمان تسنیم اسلم نے کہا ہے کہ امریکہ بھارت کے ساتھ ’ نیوکلیئر پروگرام‘ میں تعاون کے بارے میں امریکی کانگریس کی منظوری سے استثنیٰ حاصل کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا ’ کانگریس کی استثنیٰ سے جہاں جنوبی ایشیا کی سلامتی کی صورتحال پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے وہاں عالمی سطح پر جوہری عدم پھیلاؤ کے گروپ کی کوششیں بھی متاثر ہوں گی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ معاہدہ بھارت کو اپنے کئی بڑے جوہری ’ری ایکٹر، عالمی قواعد سے باہر رکھنے اور جوہری ہتھیار بنانے کے پروگرام کو بلا رکاوٹ جاری رکھنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔‘

ترجمان کے مطابق ایسی صورتحال میں ’پاکستان امتیازی سلوک قبول نہیں کرے گا۔‘

انہوں نے کہا ہے کہ ’جنوبی ایشیا میں ’سٹریٹجک، استحکام قائم رکھنے اور عالمی سطح پرجوہری عدم پھیلاؤ کے لیے کی جانے والی کوششوں کے لیے یہ بہت اچھا ہوتا کہ امریکہ جوہری عدم پھیلاؤ کے حامی دونوں ممالک کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے اور خطے میں اسلحہ کی دوڑ کو روکنے کے لیے یکساں سوچ رکھتا۔‘

ترجمان نے کہا ہے کہ اس خطے کی جوہری تاریخ واضح ہے کہ پاکستان نے یہ قوت اس وقت حاصل کرنے کی کوشش شروع کی جب بھارت نے انیس چھہتر میں جوہری تجربہ کیا۔

پاکستان نے انیس سو اٹھانوے میں بھارت کے جوہری دھماکے کے بعد ہی ایٹمی تجربات کیے تھے۔

ترجمان کے مطابق پاکستان کی جانب سے جنوبی ایشیا میں سلامتی کے لیے توازن پیدا کرنے کے اقدامات سے ہی سن دوہزار دو میں ( کارگل کے وقت) خطے میں امن اور استحکام قائم رہا۔

انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان جب ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہا ہے اور خطے میں اسلحہ کی دوڑ کے خلاف ہے اور کم سے کم مضبوط ترین دفاعی صلاحیت کے قیام کا حامی ہے تو ایسے میں ’ اپنی سلامتی کی ضروریات اور اقتصادی ترقی کے لیے جوہری توانائی کے حصول سمیت توانائی کی ضروریات پوری کرنے سے غافل نہیں رہ سکتا۔

دفتر خارجہ کی ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان کے جوہری توانائی کے تمام ’ری ایکٹر، عالمی جوہری ایجنسی کے قواعد کے طابع ہیں اور آئندہ قائم ہونے والے جوہری توانائی پیدا سے بجلی پیدا کرنے والے ’ری ایکٹر بھی رہیں گے۔‘

ترجمان نے دنیا میں ’نیوکلیئر سپلائرز گروپ‘ کے رکن ممالک سے توقع ظاہر کی ہے کہ وہ جوہری توانائی کے حصول میں پاکستان کی مدد کریں گے۔

واضح رہے کہ پاکستان نے اس سے پہلے بش انتظامیہ کے بارے میں کبھی سخت بیان جاری نہیں کیا۔ یہ بیان اس وقت جاری کیا گیا ہے جب صدر بش نے پہلی بار جنوبی ایشیا کا دورہ کیا اور بھارت کے ساتھ شہری جوہری پروگرام کے بارے میں تعاون کا معاہدہ کیا۔ جبکہ پاکستان سے بیشتر شعبوں میں تعاون کے رسمی اعلانات ہوئے۔

ایسی صورتحال میں جہاں ملک کے اندر صدر مشرف پر تنقید ہوتی رہی کہ وہ امریکہ کی عالمی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صف اول کے اتحادی ہونے کے باوجود بھی پاکستان کے لیے کچھ حاصل نہیں کر پائے۔

کچھ ماہرین جہاں اس بیان کو امریکی صدر بش کے خلاف جہاں صدر مشرف کا سخت رد عمل قرار دے رہے ہیں وہاں بعض تجزیہ کار صدر بش کے دورے کے بعد صدر مشرف کے لیے پیدا ہونے والے منفی تاثر کو زائل کرنے کی ایک کوشش بھی کہتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد