BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 24 February, 2006, 11:34 GMT 16:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گجرات: عدالتوں کو غصہ کیوں آیا

انڈیا کے حقوقِ انسانی کے قومی کمیشن نے بیسٹ بیکری کیس کو انصاف کا خون قرار دیا تھا
انڈیا کی ریاست گجرات میں جو فرقہ وارانہ فسادات ہوئے تھے انہیں ملک میں اقلیتوں کے تحفظ کے ریکارڈ کے تناظر میں ایک بڑا چیلنج سمجھا جاتا رہا ہے۔

ان فسادات کی وجہ سے انڈیا کے مسلمانوں کی اکثریت اپنے آپ کو انتہائی غیر محفوظ سجمھتی ہے۔ مسلمان انڈیا کی سب سے بڑی اقلیت ہیں۔

گجرات فسادات میں جو گودھرا ٹرین پر ہندوؤں کے جل کر ہلاک ہوجانے کے بعد شروع ہوئے، ایک ہزار سے زیادہ افراد مارے گئے تھے۔

الزام یہ تھا کہ مسلمان نوجوانوں کے ایک ہجوم نے گودھرا میں یہ حملہ کیا تھا اور نتیجتاً انسٹھ ہندو ہلاک ہوگئے تھے۔

لیکن اس کے نتیجے میں جو جوابی کارروائی ہوئی اس میں ساری توجہ گجرات کی مسلم اقلیت پر منتقل ہوگئی ۔

مسلمانوں کے کاروبار اور گھروں کو صفحِۂ ہستی سے مٹا دیا گیا اور ہجوم نے وحشیانہ انداز میں مردوں، عورتوں اور بچوں کو ہلاک کیا۔

مسلمانوں کی عبادت گاہوں کی بے حرمتی کی گئی۔

فسادات کے بعد غیر جانبدار مبصرین اور حقوقِ انسانی کے گروپوں نے گجرات حکومت پر جو بھارتی جنتا پارٹی کی حکومت تھی، یہ الزام لگایا کہ اس نے ان واقعات پر چشم پوشی سے کام لیا ہے۔

پولیس پر یہ الزام لگے کہ اس نے دنگوں میں مداخلت کرنے سے انکار کر دیا یا پھر بہت مواقع پر تشدد روکنے کے لئے اس وقت آئی جب بہت دیر ہو چکی تھی۔

بیسٹ بیکری کیس انڈین ریکارڈ کے تناظر میں چیلنج بن گیا تھا

ایک موقع پر امریکہ میں مقیم حقوقِ انسانی کے ایک گروپ نے کہا کہ گودھرا ٹرین کی آتشزدگی کے سلسلے میں سو مسلمانوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا لیکن دوسری طرف مسلمانوں پر تشدد کے الزام میں کسی ہندو پر کوئی الزام عائد نہیں ہوا۔

ایک موقع پر یہ معاملہ بھی سامنے آیا کہ بڑودہ شہر میں بارہ مسلمانوں کو بیسٹ بیکری پر حملے کے دوران ہلاک کر دیا گیا جن میں سے اکثر کو زندہ جلا دیا گیا۔

تاہم اس مقدمے میں 71 میں سے 45 گواہ ادھر ادھر ہوگئے۔ ظاہرہ شیخ نے الزام عائد کیا کہ انہیں ڈرایا دھمکایا گیا۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ بیسٹ بیکری کیس فسادات میں تشدد کا شکار ہونے والے اور دیگر مسلمانوں کے خوف اور خدشات کا ایک نمائندہ کیس ہے۔

انڈیا کے حقوقِ انسانی کے قومی کمیشن نے اس کیس کو انصاف کا خون قرار دیا اور کہا کہ پانچ دوسرے مقدمات کے ساتھ ساتھ بیسٹ بیکری کیس کی سماعت کوئی آزاد ادارہ کرے۔

بظاہر انڈیا کی سپریم کورٹ نے ان خیالات سے اتفاق کیا اور حکومت نے جس طرح اس مقدمے کو چلایا اس پر ناپسندیدگی ظاہر کی۔

نتیجہ یہ ہوا کہ یہ مقدمہ گجرات کی بجائے ریاست مہاراشٹر میں ایک خصوصی عدالت نے سنا اور اکیس میں سے نو افراد کو مجرم جانتے ہوئے انہیں عمر قید کی سزا سنائی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد