BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 17 February, 2006, 12:17 GMT 17:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایڈز ختم کرنے میں کلنٹن کی مدد

 بل کلنٹن اوروزیر اعظم شوکت عزیز مفاہمت کی یاداشت پر دستخط کرتے ہوئے
بل کلنٹن اوروزیر اعظم شوکت عزیز مفاہمت کی یاداشت پر دستخط کرتے ہوئے
سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے پاکستان کی حکومت کے ساتھ مفاہمت کی ایک یاداشت پر دستخط کیئے ہیں جس کے مطابق کلنٹن فاؤنڈیشن پاکستانی حکومت کو ایچ آئی وی ایڈز کے خلاف مہم میں مدد دے گی اور پاکستانی افراد کو ایڈز کی تشخیص اور سستی دوائیوں کی سہولت فراہم کرے گی۔

سابق امریکی صدر جو آج پاکستان کے دورے پر اسلام آباد پہنچے ہیں انہوں نے پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیر اعظم شوکت عزیز سے ملاقات کی۔اس ملاقات کے بعد بل کلنٹن اور وزیر اعظم شوکت عزیز نے مفاہمت کی یاداشت پر دستخط کیئے۔

سابق امریکی صدر نے مفاہمتی یاداشت پر دستخط کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پاکستان سے ایڈز کے خاتمے کے لیئے حکومت پاکستان کی طرف سے کی گئی کوششوں کی تعریف کی اور کہا کہ دنیا کے کئی ممالک اس موذی مرض کے خلاف جنگ میں وہ کوششیں نہیں کر رہے جو پاکستان کی حکومت نے کی ہیں۔

کلنٹن فاؤنڈیشن پاکستانی حکومت کو ایڈز کے ریپڈ ٹیسٹ اور ادویات عام قیمت سے ستر فی صد کم قیمت پر فراہم کرے گی
بل کلنٹن

بل کلنٹن کے مطابق کلنٹن فاؤنڈیشن پاکستانی حکومت کو ایڈز کے ریپڈ ٹیسٹ اور ادویات عام قیمت سے ستر فی صد کم قیمت پر فراہم کرے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ابھی ایڈز کے بہت کم مریض ہیں مگر پاکستانی حکومت نے اس مرض کی روک تھام کے لیئے ٹھوس اقدامات کیئے ہیں۔

سابق امریکی صدر نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کی تعریف کی اور کہا کہ پاکستان دنیا میں بین المذاہب ہم آہنگی قائم کرنے کے لیئے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

اس موقع پر پاکستانی وزیر اعظم شوکت عزیز نے بل کلنٹن کا پاکستان آمد پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کلنٹن فاؤنڈیشن کی مدد سے پاکستانی حکومت کو ایڈز کی روک تھام میں خاصی مدد ملے گی۔

بل کلنٹن نے یورپی اخبارات میں پیغمبر اسلام کے بارے میں شائع کیئے جانے والے کیری کیچرز کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے اسلامی دنیا میں لوگوں کے احساسات مجروح ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان کیری کیچرز کی اشاعت سے قطعًا اتفاق نہیں کرتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ لوگوں کے مذہبی جذبات کا احترام کرنا ضروری ہے اور ذرائع ابلاغ کو مذہبی تضحیک کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد