’جوش و جذبے میں کمی آئی ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی کرکٹ بورڈ کے سابق سینئرنائب صدر اور اب چیئرمین میڈیا کمیٹی راجیو شکلا کا کہنا ہے کہ سنہ 2004 میں پاکستان میں ہونے والی پاک بھارت کرکٹ سیریز اور اس جاری سیریز میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ پاک بھارت کرکٹ سیریزکی بحالی میں اہم کردار ادا کرنے والے راجیش شکلا کے مطابق سنہ 2004 میں جب ہماری ٹیم پاکستان آ رہی تھی تو کھلاڑی کافی پریشان اور گھبرائے ہوئے تھے کہ نا جانے پاکستان میں ان کے ساتھ کیسا سلوک ہو لیکن جب وہ یہاں آئے تو انہیں اتنا پیار اور عزت ملی کہ سب خدشات دور ہو گئے اور اس بار جب بھارتی ٹیم یہاں آ رہی تھے تو کھلاڑی اتنے ہی مطمئن اور خوش تھے جتنے کہ وہ انگلینڈ اور آسٹریلیا کے دورے کے لیے ہوتے ہیں۔ راجیو شکلا نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان مسلسل میچز ہونے سے عوام کے رویے میں تبدیلی بھی آئی ہے دونوں ٹیموں کے درمیان کرکٹ نہ ہونے کے سبب کبھی یہ ٹیمیں کسی بین الاقوامی ٹورنامنٹ میں آمنے سامنے ہوتیں تو عوام کا رویہ ایسا ہوتا کہ جیسے کوئی جنگ لڑی جا رہی ہو۔ سنہ 2004 کی سیریز میں بھی نا صرف دونوں ملکوں کے عوام بلکہ دونوں کرکٹ بورڈز کے اہلکار بھی جیت اور ہار کے لیے جذباتی رویہ رکھتے تھے لیکن اس سیریز میں ہم میں ایسی کوئی جذباتی کیفیت موجود نہیں۔ انہوں نے مزاح کے انداز میں کہا کہ اگر ہم پشاور میں ہارے تو میرا بلڈ پریشر وہیں کا وہیں رہا اور پنڈی کی جیت سے بھی دماغ خراب نہیں ہوا۔ راجیو شکلا نے یہ بھی تسلیم کیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان زیادہ کھیل ہونے سے دلچسپی میں کچھ کمی تو آئی ہے لیکن ایک بہت بڑا فائدہ یہ ہوا کہ اس کھیل کے حوالے سے لوگوں کے اندر جو جنگ اور دشمنی پائی جاتی تھی اس میں بھی کافی کمی ہوئی۔ ان کے مطابق بھارت اور پاکستان کے لوگوں کو قریب لانے میں کرکٹ کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ سنہ 2004 کی پاک بھارت سیریز کے دوران کئی بھارتی اداکار بھی آئے تھے لیکن اس بار لاہور میں ہونے والے تیسرے ایک روزہ کو دیکھنے کے لیے بھی کوئی اداکار نہیں آیا۔ اس ضمن میں راجیو شکلا کا کہنا تھا کہ اس بار بھی کئی اداکار آنا چاہتے تھے جن میں انیل کپور، سنیل سیٹھی ، بونی کپور اور سری دیوی شامل ہیں لیکن عاشورہ محرم کی چھٹی کے سبب ویزہ حاصل نہیں کر سکے۔ | اسی بارے میں ویزے کی مدت تین دن13 February, 2006 | کھیل مہنگے ٹکٹ بھی فوراً بک گئے 02 February, 2006 | کھیل آفریدی: لاکھوں دلوں کی دھڑکن22 January, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||