خان عبدالولی خان انتقال کر گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے بزرگ سیاستدان اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہبر خان عبدالولی خان طویل علالت کے بعد جمعرات کی صبح پشاور میں انتقال کر گئےہیں۔ ان کی عمر 89 برس تھی۔ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما حاجی محمد عدیل نے ان کے انتقال کی خبر کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کل شام سے ان کی حالت کافی تشویشناک ہوگئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ولی خان کی نماز جنازہ جمعہ کو پشاور کے جناح پارک میں جیسے آج بھی اے این پی کے رہنما کنیگم پارک کے نام سے پکارتے ہیں تین بجے ہوگی۔ بعد میں انہیں ان کی وصیت کے مطابق ان کے آبائی گاؤں ولی باغ میں سپرد خاک کیا جائے گا۔ پشاور کے مرکز میں واقعہ جناح پارک کو عوامی نیشنل پارٹی نے سرخ اور سیاہ پرچموں سے سجا دیا ہے۔ پارک کے مرکز میں ولی خان کی تصویر کے پاس ان کی میت رکھنے کا انتظام کیا گیا ہے جہاں لوگ ان کا آخری دیدار کل تک کر سکیں گے۔ ولی خان فرنٹیر گاندھی کہلوانے والے مرحوم خان عبدالغفار خان کے بیٹے تھے جو انیسو سترہ کو ضلع چارسدہ میں اتمانزئی کے مقام پر پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز تقریبا ساٹھ برس قبل خدائی خدمتگار تحریک میں شمولیت سے کیا تھا۔ اس کے علاوہ وہ نیپ اور اے این پی کے بھی صدر منتخب ہوئے۔ اپنی سیاسی زندگی کے دوران وہ کئی مرتبہ پابند سلاسل بھی ہوئے۔ ان پر ان کی تمام سیاسی زندگی کے دوران پاکستان مخالف ہونے کا الزام لگتا رہا جس کی وجہ سے کئی مبصرین کے مطابق وہ ملک کی سطح پر عوامی رہنما کی حثیت حاصل نہیں کر سکے۔ لیکن اس بات پر آج سب لوگ متفق نظر آتے ہیں کہ وہ ایک نڈر اور اصول پسند سیاستدان رہے ہیں۔ ولی خان گزشتہ کئی برسوں سے علیل تھے۔ لیکن دو روز قبل ان کی دماغ کی شریان پھٹنے سے وہ کومہ میں چلے گئے تھے۔ انہیں علاج کے لیے چارسدہ میں ان کے آبائی گھر ولی باغ سے پشاور لایا گیا تھا۔ پشاور میں آج سرحد اسمبلی نے تعزیتی قرار داد منظور کرتے ہوئے اپنا اجلاس دو روز کے لیے ملتوی کر دیا ہے۔
بڑی تعداد اعلی سرکاری اور سیاسی شخصیات نے صبح سے ہی شامی روڈ پر واقعے ولی خان کی بیٹی ڈاکٹر گلالئی کے مکان کا تعزیت کے لیے رخ کر رکھا ہے۔ ولی خان نے انیسو نوے میں مولانا حسن جان کے ہاتھوں عام انتخابات میں شکست کے بعد عملی سیاست کو خیرآباد کہہ دیا تھا۔ اس وقت سے انہوں نے ذرائع ابلاغ سے بھی دوری رکھی۔ ولی خان نے سوگواران میں بیوی بیگم نسیم ولی خان کے علاوہ دو بیٹے اور تین بیٹیاں چھوڑی ہیں۔ ان کی سیاسی وراثت ان کے برخوردار سینٹر اسفندیار ولی نے آج کل سنبھالی ہوئی ہے۔ وہ عوامی نیشنل پارٹی کے موجودہ مرکزی صدر ہیں۔ مرحوم نے قید کے دوران ایک کتاب ’فیکٹس آر فیکٹس‘ بھی لکھی تھی۔ ولی خان کے چلے جانے سے صوبہ سرحد میں پختون قوم پرست سیاست کا ایک اور باب اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہے۔ | اسی بارے میں ممتاز صحافی جوہر میر انتقال کر گئے31 December, 2004 | پاکستان عبدالرسول بلوچ انتقال کرگئے03 July, 2005 | پاکستان حنیف رامے انتقال کر گئے01 January, 2006 | پاکستان سکواش: روشن خان انتقال کرگئے 07 January, 2006 | پاکستان خان عبدالولی خان انتقال کر گئے 26 January, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||