کشمیر میں امدادی کارروائیاں معطل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پچھلے اڑتالیس گھنٹوں سے زائد عرصے سے جاری بارشوں اور برف باری نے سڑکوں کو بری طرح متاثر کیا ہے جس کے باعث امدادی سرگرمیاں رک گئی ہیں۔ کشمیر کے اس علاقے کے دارلحکومت مظفرآباد کو پاکستان کے ساتھ ملانی والی دو سڑکوں میں سے صرف ایبٹ آباد والی سڑک کھلی ہے جبکہ کوہالہ والی سڑک برف باری اور بارشوں کی وجہ سے بند ہے۔ اسی طرح سے تمام متاثرہ ضلعوں باغ، مظفرآباد، وادی نیلم اور راولاکوٹ کا باہمی رابطہ سڑکیں بند ہوجانے کی وجہ سے منقطع ہوگیا ہے اور ان اضلاع کی اندرونی سڑکیں بھی بارشوں اور برف باری کی وجہ سے بند ہوگئی ہیں۔ بارشوں اور برف باری کے باعث دو دن سے ہیلی کاپڑ کے ذریعے پہچائی جانے والی امداد کا کام بھی رکا ہوا ہے جبکہ سڑکوں کے ذریعے امدادی کا کام پیر کو ہی رک گیا تھا۔ تاہم فوجی حکام کا دعویٰ ہے کہ فوری تشویش کی کوئی بات نہیں کیوں کہ ان کے مطابق متاثرہ چار ضلعوں میں قائم کیے گئے ایک سو امدادی کیمپوں میں ایک ہفتے کے لیے خوراک، کمبل اور ادویات جمع ہیں۔ بارشوں کی وجہ سے خیمہ بستیوں میں رہنے والے لوگ کیچڑ کے باعث اپنے خیموں تک ہی محدود ہوگئے ہیں۔ بہت ساری خیمہ بستیاں اس لیے زیادہ متاثر نہیں ہوئیں کیوں کہ وہ برف کی لکیر سے نیچے قائم ہیں۔
بہت ساری خیمہ بستیوں میں یہ دیکھا گیا ہے کہ بارش سے بچنے کے لیے خیموں کے باہر پلاسٹک کی شیٹ لگائی گئی ہے لیکن وہ لوگ جو برفانی علاقوں میں رہتے ہیں ان میں بہت ساروں نے اپنے اور اپنے مویشیوں کے لیے ٹین کی چادروں اور لکڑی کی جھونپڑیاں بنائی ہیں۔ مظفرآباد سے پچیس کلومیڑ کے فاصلے پر واقع سران گاؤں کے بارے میں یہ اطلاعات ہیں کہ اس مقام پر خاصی برف پڑی ہے لیکن مظفرآباد سے آٹھ کلومیڑ کے فاصلے پر واقع کھلا گاؤں سے آگے مٹی کے تودے گرنے اور سڑک بہہ جانے کی وجہ راستہ بند ہو گیا ہے۔ کھلاں گاؤں میں کئی انچ برف باری ہوئی ہے اور درجنوں خاندان اب بھی اس گاؤں میں رہتے ہیں۔ ان کے گھر تباہ ہوئے ہیں اور انہوں نے اپنے لیے ٹین کی چادروں اور لکڑی سے عارضی رہائش گاہیں بنائی ہیں۔ ان ہی خاندانوں میں ایک سرکاری دفتر میں چپڑاسی کے طور پر کام کرنے والے راجہ واجد علی کا بھی خاندان ہے۔ اس گاؤں میں دوسروں کی طرح واجد علی کا گھر بھی زلزلے میں تباہ ہوگیا اور زلزلے میں ان کی ایک بیٹی اور بہن بھی ہلاک ہوگئیں لیکن ان کے مویشیوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ واجد نے بھی ٹین کی چادروں اور لکڑی سے اپنی عارضی رہائشگاہ بنائی ہے۔ انہوں نے یہ رہائشگاہ ایک ماہ قبل بنائی اور ان کا کہنا ہے کہ اسے بنانے میں ایک ہفتہ لگا۔ واجد کا کہنا تھا کہ ’میں نے یہ رہائش اپنے طور پر بنائی ہے اور ہمیں ابھی تک حکومت کی جانب سے عارضی گھر بنانے کے لیے پچیس ہزار روپے نہیں ملے ہیں‘۔ راجہ کی یہ رہائش تین حصوں پر مشتمل ہے ایک حصے میں وہ سوتے ہیں جبکہ دوسرے حصے کو باورچی خانہ بنایا ہے اور تیسرے حصے میں مویشی رکھے ہیں۔ سونے کے لیے بنائے گئے چھوٹے سے کمرے میں پندرہ افراد گزارہ کرتے ہیں۔
راجہ واجد کا خاندان تو اب صرف پانچ افراد پر مشتمل ہے لیکن ان کے قریبی عزیز بھی ان کے ساتھ رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہم مشکل سے گزارہ کرتے ہیں اور بارشوں اور برف باری کی وجہ سے اس گھر کی چھت بھی ٹپکتی ہے‘۔ راجہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے ٹین کی جو چادریں استعمال کی ہیں ان میں بہت سے سوراخ تھے اور یہی وجہ ہے کہ چھت ٹپکتی ہے البتہ جہاں سے چھت ٹپکتی ہے وہاں وہ کوئی برتن رکھتے ہیں تا کہ پانی سارے گھر میں نہ پھیل جائے۔ راجہ واجد کا کہنا ہے کہ ’یہاں پر بہت ٹھنڈ ہے اور ہم سردی سے بچنے کے لیے آگ جلاکر رکھتے ہیں‘۔ انہوں نے کہا ٹھنڈ کی وجہ سے ان کی دودھ دینے والی بھینس بیمار ہوگئی ہے جس کے لیے وہ مظفرآباد سے دوائی لائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہم میدانی علاقوں میں قائم خیمہ بستیوں میں اس لیے نہیں گئے کیوں کہ ہمیں اپنے مال مویشی کی دیکھ بھال کرنا ہوتی ہے اور یہ کہ وہ خیموں میں مال مویشی لے کر نہیں جا سکتے تھے۔ واجد کی والدہ پروین کا کہنا تھا کہ ’ہمیں سب سے بڑا مسئلہ پانی کا ہے۔ زلزلے کی وجہ سے واٹر سپلائی کا نظام تباہ ہوگیا ہے۔ ہمیں بہت دور سے چشمے سے پانی لانا پڑتا ہے اور ہمیں پانی کا ایک مٹکا لانے میں دو تین گھنٹے لگ جاتے ہیں‘۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ برف اور بارش کا پانی جمع کرکے گھر میں پینے اور کھانا پکانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ واجد علی کا کہنا ہے کہ’یہ موسم سرما ان کے لیے مشکل ضرور ہوگا لیکن ہمارے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے‘۔ | اسی بارے میں برفباری، مزید جھٹکے، راستے بند 27 November, 2005 | پاکستان زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں برفباری01 November, 2005 | پاکستان ناران میں برفباری، نئی مصیبتیں25 November, 2005 | پاکستان چیتے پر زمین تنگ01.08.2002 | صفحۂ اول اسلام آباد میں اولے29.01.2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||