بلوچستان چھاپے، اسلحہ برآمد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ بلوچستان کے شہر منگوچر میں نیم فوجی دستے کے اہلکاروں نے چھاپے مار کر بڑی مقدار میں اسلحہ برآمد کیا ہے۔ یہ اسلحہ دیہی علاقوں میں جھونپڑیوں میں اور زیر زمین چھپایا گیا تھا۔ ان جھونپڑیوں میں خواتین رہ رہی تھیں لیکن انھوں اس اسلحے کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ فرنٹیئر کور کے ترجمان کرنل حسن نے بتایا ہے کہ یہ چھاپے خفیہ اطلاع کی بنیاد پر مارے گئے ہیں جہاں سے تیئس راکٹ لانچر ایک سواٹھاون مارٹر بم، چھپن دستی بم، چودہ کلاشنکوف، گولیوں سے بھری ہوئی تیس پیٹیاں، چار بارودی سرنگیں، ایک سو سولہ ٹائمر، ایک پستول پانچ رائفل، ایک سو سات راکٹس اور بڑی مقدار میں طیارہ شکن اور ٹینک شکن گولیاں برآمد ہوئی ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ اب تک اس سلسلے میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی تاہم اسلحے کی تلاش کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ قلات سے مقامی صحافی محمود آفریدی نے بتایا ہے کہ فرنٹیئر کور کے سو کے لگ بھگ اہلکار گزشتہ روز اس علاقے میں آئے لیکن ان کے آنے سے پہلے اس علاقے سے کچھ لوگ فرار ہو گئے تھے۔ انھوں نے کہا ہے کہ زیادہ تر اسلحہ زنگ آلود تھا جسے مختلف مقامات پر چھپایا گیا تھا۔ یہاں یہ اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ یہ چھاپے کراچی بم دھماکے میں حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر لگائے گئے ہیں۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ اس علاقے سے اسلحہ مختلف مقامات کو سمگل کیا جاتا تھا اور یہاں اسلحہ افغانستان سے اونٹوں پر لاد کر لایا گیا ہے۔ منگوچر کے قریب قلات کے علاقے میں راکٹ باری اور بم دھماکوں کے کئی واقعات پیش آئے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل وزیر اعلی بلوچستان جام محمد یوسف کے آبائی مکان پر راکٹ داغے گئے تھے اور فائرنگ کی گئی تھی اس کے علاوہ بم دھماکوں اور فائرنگ کے دیگر واقعات میں کئی افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان علاقوں میں موٹر سائکل چھیننے کی وارداتیں عام ہیں۔ | اسی بارے میں کوہلو حملے والوں کا پتہ ہے: جام یوسف23 August, 2005 | پاکستان عسکری کارروائیوں کی راہ کیوں؟15 February, 2005 | پاکستان ’بلوچ آرمی، بلوچ فرنٹ کا وجود ہے‘12 December, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||