جبوڑی کے سفید پوش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دریائے سرن کے کنارے ایک خوبصورت وادی میں آباد جبوڑی کے قصبے میں محمد مشتاق سواتی مڈل سکول میں ٹیچر ہیں۔ مشتاق سواتی کا گھرانہ اس چھوٹے سے قصبے میں کئی پشتوں سے آباد ہے اور ان کا شمار قصبے کے معزز گھرانوں میں ہوتا ہے۔ قصبے کے سکول میں کئی برس سے درس و تدریس کی خدمت انجام دینے کے حوالے سے بھی ان کی قصبے کے لوگ بہت عزت کرتے ہیں۔ آٹھ اکتوبر کی صبح وہ معمول کے مطابق اپنی جماعت کو پڑھا رہے تھے جب اچانک ان کے سامنے سے بلیک بورڈ غائب ہو گیا ان کے شاگرد بھاگ کر کھلے میدان میں نکل گئے اور ان کا سکول ملبے کا ڈھیر بن گیا۔ ان چند لمحات نے مشتاق کی دنیا ہی بدل ڈالی جب وہ گھر پہنچے تو گھر ملبے کا ڈھیر بن چکا تھا۔ خوش قسمتی سے ان کے گھر میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ لیکن اب مشتاق اپنے گھر سے ملحقہ فارسٹ کوارٹر کے لان میں جسے چوکی بھی کہا جاتا ہے خیمے میں مقیم ہیں۔ انہوں نے اپنے اہل خانہ کو شہر منتقل کر دیا اور وہ سکول کھلنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ جبوڑی مانسہرہ سے گزرتی ہوئی شاہراہ قراقرم کی ایک ذیلی سڑک پر واقع ہے اور یہیں ثریا بی بی بھی مقیم ہیں۔ مشتاق سواتی کی طرح ان کے گھرانے کا شمار بھی قصبے کے سفید پوش گھرانوں میں ہوتا ہے۔ ثریا کا گھر بھی مسمار ہوچکا ہے اور وہ ایک خیمے میں اپنے گھر کے پانچ افراد کے ساتھ پناہ لیے ہوئے ہیں۔ ثریا آٹھ اکتوبر کے زلزلے میں خود بھی کئی گھنٹوں تک ملبے تلے دبی رہیں اور اسی جگہ ان کے گھر کی دو خواتین ہلاک ہو گئیں۔ وہ ملبے سے تو نکل آئیں لیکن انہیں طبی امداد کے لیے ہسپتال نہیں پہنچایا جا سکا۔ جبوڑی کو مانسہرہ سے ملانے والی شاہراہ کئی جہگوں پر مٹی کے تودے گرنے سے بند ہو گئی تھی اور اس بنا پر انہیں ہسپتال تک نہیں پہنچایا جا سکا۔ ثریا حکومت کی طرف سے ہلاک شدگان اور زخمیوں کو دی جانے والی مالی امداد کی مستحق قرار نہیں پائی ہیں کیونکہ انہیں بروقت ہسپتال منتقل نہیں کیا گیا تھا۔ اسی لیے ان کی ہسپتال یا کسی طبی مرکز میں رجسٹریشن نہیں ہو سکی اور اسی شرط کی وجہ سے وہ مالی امداد سے بھی محروم ہو گئی ہیں۔ جبوڑی کے ایک معزز گھر کی عورت ہونے کے ناطے انہیں اپنی ضروریات کے لیے سرن دریا میں گرنے والے ایک چشمے پر جانے پڑتا ہے جو ان کے لیے روز کی اذیت سے کم نہیں ہے۔ مشتاق سواتی کو زلزلے کے بعد سے جب تک مانسہرہ جبوڑی سڑک نہیں کھل گئی اسی قسم کی ذہنی کیفیت سے دوچار ہونا پڑا۔ مشتاق سواتی کو جن کا شمار قصبے کے زکٰوۃ اور خیرات کرنے والے لوگوں میں شمار ہوتا تھا خود امدادی سامان اور خوراک لینے کے لیے ان لوگ کے ساتھ فوجی کیمپ کے سامنے قطار میں کھڑا ہونا پڑا جن کو خود خیرات دیتے تھے۔ سڑک کھلنے کے بعد مشتاق سواتی نے اپنے بچوں کو مانسہرہ بھجوا دیا اور قصبے میں دکانیں کھل جانے کے باعث ان کی خوراک کی ضروریات بھی پوری ہونے لگیں اور انہیں قطار میں کھڑے ہو کر امداد لینے کی ذہنی اذیت سے چھٹکار مل گیا لیکن ثریا بی بی اور اس طرح کی بے شمار خواتین کی مشکلات کب حل ہوں گی اس کا جواب فوج کیمپ میں تعینات نہ کرنل عابد کے پاس موجود ہے نہ جبوڑی کا دورہ کرنے والے وزراء کے پاس۔ |
اسی بارے میں ’اور کچھ نہیں تو نیند کی گولی‘ 10 November, 2005 | پاکستان بارش: زلزلے کے متاثرین مشکل میں11 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||