فون موجود، کرنے والے غائب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سری نگر میں سولہ سال بعد پاکستان کے زیر انتظام کشمیر فون سروس کے محدود پیمانے پر بحال کیے جانے پر توقعات کے برعکس بہت کم لوگ فون کرنے کے لیے خصوصی فون بوتھس پر آئے۔ بھارتی حکومت نے بدھ کو سولہ سال کے طویل عرصے کے بعد بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں کنٹرول لائن کے پار پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں فون کرنے کی سہولت محدود پیمانے پر بحال کی تھی۔ یہ اقدام پاکستان کے زیرِ انتظام کمشیر میں زلزلے سے تباہی کے پیش نظر انسانی بنیادوں پر کیا گیا۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں کل چار جگہوں پر ٹیلی فون بوتھ قائم کیے گئے جہاں سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں فون کیا جا سکتا ہے۔ ان میں سے ایک سری نگر میں پولیس کنٹرول روم میں قائم کیا گیا ہے۔ توقعات کے برعکس بہت ہی کم تعداد میں لوگ اس سہولت سے مستفید ہونے کے لیے آئے۔ پولیس کنٹرول روم میں قائم فون بوتھ پر تعینات فاروق احمد نے کہا کہ پہلے دن اکتیس افراد مظفرآباد فون کرنے کے لیے آئے۔ اس کے علاوہ انہوں نے چودہ کالیں مظفرآباد ملا کر دیں۔ ایک فون کرنے کے لیے آنے والے غزیز الرحمان نے کہا کہ گزشتہ ماہ ان کی والدہ بس کے ذریعے مظفر آباد گئی تھیں لیکن اب تک ان سے کوئی رابط نہیں ہو سکا اور ان کی کوئی خیریت نہیں مل سکی۔ عزیز الرحمان نے کہا کہ انہوں نے بہت کوشش کی لیکن فون نہیں مل سکا۔ امید کی جا رہی تھی کہ فون بوتھ کے باہر لوگوں کی قطاریں لگ جائیں گی لیکن کسی بوتھ کے باہر بھی کوئی لائن نظر نہیں آئی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||