BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 08 October, 2005, 02:15 GMT 07:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
روسی کمپنی کے ساتھ معاہدہ
بدلتی ہوئی امریکی پالیسی کے نتیجے میں ایران۔پاک۔انڈیا پائپ لائن خطرے میں پڑسکتی ہے
پاکستان نے روسی کمپنی گیزپروم کے ساتھ ایک سمجھوتے پر دستخط کیا ہے جس کے تحت دونوں ممالک تیل اور گیس کے سیکٹر میں تعاون کریں گے۔

پاکستانی وزیراعظم شوکت عزیز نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ اس سمجھوتے کے تحت روسی کمپنی کو تیل اور گیس کی تلاش کے لئے ’بلاک‘ یعنی علاقے متعین کیے جائیں گے۔

شوکت عزیز کا کہنا تھا کہ روسی کمپنی ایک گیس پائپ لائن میں سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہے جس کے ذریعے ایران سے پاکستان کے ذریعے انڈیا تک گیس کی فراہمی ممکن ہو۔

اطلاعات کے مطابق پاکستانی حکومت نے ایک منصوبہ بنایا ہے جس کے تحت تیل اور گیس کے کنوؤں کی تعداد میں آئندہ پانچ برسوں کے دوران تین گنا اضافہ کیا جائے گا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ پاکستانی حکومت کے اس منصوبے کے تحت ملک میں تیل کی پیداوار آئندہ پانچ برسوں میں پچاس گنا بڑھ جائے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد