بیوی کے قاتل کو پچیس سال قید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ایک ضلعی فوجداری عدالت نے ایک کشمیری شخص کو کشمیری نژاد برطانوی شہریت کی حامل بیوی کو زہر دے کر قتل کرنے کا مجرم قرار دے کر پچیس سال قید سخت کی سزا سنائی ہے ۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے جنوبی ضلع میرپور میں ضلعی فوجداری عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ واقعاتی شواہد سے ثابت ہوا ہے کہ فیاض احمد نے اپنی بیوی شگفتہ نازنین اقبال کو زہر دے کر قتل کیا ہے لہذا یہ عدالت فیاض احمد کو پچیس سال قید سخت کی سزا سناتی ہے ۔ کشمیری نژاد برطانوی شہری 23 سالہ شگفتہ نازنین اقبال کی شادی چھ سال قبل اپنے ایک رشتہ دار فیاض احمد سے میرپور میں ہوئی تھی۔ شگفتہ برطانیہ میں پیدا ہوئیں اور وہیں پلی بڑھیں جبکہ ان کے شوہر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے شہر میرپور کے ایک گاؤں کے رہنے والے ہیں دونوں خاندانوں کی یہ خواہش تھی کہ شگفتہ کے شوہر بھی برطانیہ میں سکونت اختیار کریں۔ شادی کے تھوڑے ہی عرصے بعد شگفتہ اپنے والدین کے پاس برطانیہ واپس چلی گئیں جہاں انہوں نے بلیک برن میں ایک جیولری کی دکان پر سیلز اسٹنٹ کے طور پر کام شروع کیا۔ لیکن فیاض کسی وجہ سے برطانیہ کا ویزا حاصل کرنے میں ناکام رہے اور وہ برطانیہ نہیں جاسکے ۔ شادی کے بعد شگفتہ برطانیہ میں ہی رہیں لیکن اس دوران وہ کھبی کبھار اپنے شوہر کے پاس میرپور آتی رہیں ۔ شگفتہ اپنے دو سالہ بیٹے دانیال کے ہمراہ چھ مارچ کو اپنے شوہر کے گھر ایک بار پھر میرپور آئیں لیکن یہ ان کا آخری سفر ثابت ہوا ۔ 27 مارچ کی رات کو وہ اپنے سسرال والوں کے گھر مردہ پائی گئیں تھیں ۔ اس واقعہ کے بعد فیاض احمد کو اپنی بیوی کے قتل کے الزام میں حراست میں لے گیا تھا اور وہ دو ماہ سے زائد عرصے سے میرپور کی ایک جیل میں ہیں۔ شگفتہ کے دو بچے ہیں ان میں دو سالہ دانیال اور دس ماہ کا فراز ہیں جو دونوں شگفتہ کے والدین کے ساتھ برطانیہ کے علاقے بلیک برن میں ہیں۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی ضلعی فوجداری عدالت نے فیاض کو اپنی بیوی کو زہر دے کر قتل کرنے کا مرتکب پاکر پچیس سال قید بامشقت کی سزا سنائی۔ لیکن فیاض اس فیصلے کے خلاف تیس دن کے اندر شریعت کورٹ میں اپیل کر سکتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||