مہمند ایجنسی سے سٹنگر برآمد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں خزینہ گاؤں میں فرنٹیر کور نے چھاپہ مار کر بھاری تعداد میں اسلحہ جس میں امریکی ساخت کے چھ طیارہ شکن سٹنگر میزائل بھی شامل ہیں برآمد کر لیے ہیں۔ پشاور سے تجزیہ نگار اور صحافی رحیم اللہ یوسف زئی نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ سٹنگر میزائیلوں کے علاوہ تین سو تیرہ بارودی سرنگیں، چار ٹینک شکن سرنگیں اور سو کے قریب راکٹ بھی برآمد ہوئے ہیں۔ یہ تمام اسلحہ تاج محمد نامی ایک شخص کے گھر سے برآمد کیا گیا ہے۔ تاج محمد سے کی جانے والی ابتدائی تفتیش میں تاج محمد نے کہا ہے کہ اس نے یہ اسلحہ کاروبار کی غرض سے رکھا ہوا تھا۔ تاہم فرنٹیرکور کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ ابھی اس بات کی تفتیش کررہے ہیں کہ یہ اسلحہ کاروبار کی غرض سے رکھا ہوا تھا یا اسے تخریبی کارروائیوں میں استعمال کرنے کی غرض سے لایا گیا تھا۔ رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا ہے کہ یہ سٹنگر میزائیل اس قدر قیمتی ہیں کہ امریکی حکومت ان کے لیے دس لاکھ ڈالر تک دینے کو تیار تھی۔ امریکی حکام کو خدشہ تھا کہ یہ میزائل کہیں ایران کے ہاتھ نہ لگ جائیں اسی لیے وہ بھاری معاوضہ دے کر یہ میزائل دوبارہ حاصل کرنا چاہتی تھی۔ افغانستان میں روس کے خلاف جنگ کے دوران امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے مجاہدین کو روس فوج کے خلاف استعمال کرنے کے لیے مہیا کیے تھے۔ تاہم افغانستان پر امریکی حملے کے بعد سے سٹنگر میزائیلوں کے استعمال کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||