’مشرف کی حمایت کرنا غلطی تھی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں چھ مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے سرکردہ رہنما حافظ حسین احمد نے پہلی بار اقرار کیا ہے کہ سترویں آئینی ترمیم کی حمایت اور صدر جنرل پرویز مشرف کو کچھ عرصہ فوجی وردی میں صدر تسلیم کرنا ایک بڑی غلطی تھی۔ سنیچر کے روز پارلیمینٹ کے کیفے ٹیریا میں پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن کے ہمراہ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے تسلیم کیا کہ صدر جنرل پرویز مشرف کی متعارف کردہ آئینی ترامیم کو انہیں منظور نہیں کرانا چاہیے تھا۔ البتہ انہوں نے کہا کہ اس وقت انہوں نے یہ فیصلہ جمہوریت کے مفاد میں کیا تھا تاکہ صدر مشرف فوجی وردی اتاریں اور ملک میں سویلین صدر ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس غلطی کے ازالے کے لیے سترویں آئینی ترمیم ختم کرانے کے لیے حزب اختلاف کی دیگر جماعتوں سے مل کر جدوجہد کر رہے ہیں اور صدر جنرل پرویز مشرف کو ہٹانے تک ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔ اس موقع پر اعتزاز احسن نے کہا کہ ان کا شروع دن سے موقف تھا کہ مجلس عمل نے غلطی کی ہے۔ تاہم انہوں نے وضاحت کی کہ پیپلز پارٹی کو متحدہ مجلس عمل کے بارے میں اب بھی کچھ تحفظات ہیں اور ان کے ساتھ مل کر وہ جدوجہد نہیں کر رہے۔ البتہ انہوں نے کہا کہ نو ستمبر کی ہڑتال کی ان کی جماعت نے حمایت کی تھی۔ واضح رہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف کی متعارف کردہ آئینی ترامیم کو آئین میں شامل کرنے پر حزب اختلاف کے دونوں بڑے اتحادوں ’اے آر ڈی‘، اور ’ایم ایم اے‘، نے ایک سال تک مشترکہ احتجاج کیا اور پارلیمان کی کارروائی میں رکاوٹ بنے رہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||