پرل کیس: ’ملزم کی حفاظت کی جائے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صحافی ڈینیئل پرل کیس میں گرفتار ملزم ہاشم عرف عارف کی زندگی کے تحفظ کے لیے سندھ ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی گئی ہےجس کی سماعت جمعہ کی صبح ہوگی۔ یہ آئینی درخواست پرل کیس کے سزا یافتہ ملزم شیخ عمر کے وکیل رائے بشیر نے دائر کی ہے۔ جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ ہاشم پرل کیس میں اشتہاری ملزم ہے۔ اسے گوجرانوالہ سے اسی کیس کی تحقیقات کے لیے کراچی لایا گیا ہے مگر اب تک پولیس نے اس کی گرفتاری پرل کیس میں ظاہر نہیں کی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ہاشم کو آرٹلری میدان پولیس نے محمد اسلم کے قتل کیس میں شامل تفتیش کیا ہے جس کی بوری میں بند لاش ملی تھی۔اسی مقدمے میں اس کا ریمانڈ بھی لیا گیا ہے۔ پٹیشن میں انسپکٹر جنرل آف پولیس، سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کراچی ساؤتھ، انچارج تفتیش آرٹلری میدان پولیس اور تفتیشی افسر کو فریق بنایا گیا ہے۔ رائے بشیر نے بی بی سی آن لائن کو بتایا کے انہوں نے پٹیشن میں کہا ہے کہ ہاشم پر پولیس تشدد کر رہی ہے جس سے اس کی زندگی کو خطرہ ہے جبکہ اس سے قبل پولیس پرل کیس کے دو اشتہاری ملزمان امجد فاروقی اور قاسم کو مقابلوں میں ہلاک کرچکی ہے۔ اس لیے خدشہ ہے کہ ہاشم کو بھی کہیں کسی ایسے مقابلے میں ہلاک نہ کر دیا جائے۔ ایڈووکیٹ بشیر نے بتایا کہ درخواست میں ہاشم کے بنیادی انسانی اور آئینی حقوق کو تحفظ دینے، اس کی گرفتاری پرل کیس میں ظاہر کرنے، متعلقہ عدالت میں پیش کرنے اور پولیس مقابلے میں ہلاک نہ کرنے کی گزارش کی گئی ہے ۔ واضح رہے کہ کراچی میں جنوری سنہ دو ہزار دو میں امریکی صحافی ڈینیئل پرل پاکستان میں مذہبی شدت پسندی پر ایک تحقیقی رپورٹ پر کام کرتے ہوئے لاپتہ ہو گئے تھے۔ ان کے اغوا کے بارے میں اس وقت علم ہوا جب نامعلوم افراد نے ای میل کے ذریعے بھیجی جانے والی تصاویر میں انہیں اپنے قبضے میں دکھایا تھا۔ بعد میں ایک وڈیو ٹیپ جاری ہوئی جس میں ڈینیئل پرل کو قتل ہوتے ہوئے دکھایا گیا۔ پولیس نے اس مقدمے میں ایک ملزم شیخ عمر کو گرفتار کیا تھا جس کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سزائےموت سنائی تھی اور جرمانہ عائد کیا تھا۔ شیخ عمر نے اس سزا کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی جو ابھی زیر سماعت ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||