پنجاب: درجنوں خطیب گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب بھر میں نماز جمعہ کے دوران لاؤڈ سپیکر کے استعمال کے قانون کی خلاف ورزی کے الزام میں سینکڑوں امام مسجدوں اور خطیبوں کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے اور درجنوں کو گرفتار بھی کیا گیا۔ ان میں سے زیادہ تر گرفتاریاں جنوبی پنجاب میں ہوئیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایک پولیس افسر نے کہا کہ مساجد میں لاؤڈ سپیکر پر عربی زبان کے علاوہ کسی اور زبان میں تقریر کرنے پر پابندی پہلے سے ہی موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ حکومت نے اس قانون پر سختی سے عمل کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ ان پرمساجد کے لاؤڈ سپیکر بے جا استعمال کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ صدر مشرف نے جمعرات کو اپنی تقریر میں انتہا پسندی سے سختی سے نمٹنے کا اعلان کیا تھا۔ لاہورمیں چھپن مقدمات درج کیے گئے لیکن ان کے تحت تاحال کوئی گرفتاری نہیں ہوئی۔ جنوبی پنجاب میں مقدمات کے اندراج کے علاوہ ایک سو بائیس افراد حراست میں لیے گئے ہیں۔پنجاب کےدوسرے علاقوں سے بھی مقدمات درج کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ جنوبی پنجاب سے ملتان کے ڈی آئی جی ملک اقبال نے کہا کہ ’ان لوگوں پر مقدمات تقاریر کے متن کی وجہ سے نہیں بلکہ اردو، پنجابی اور سرائیکی میں بات کرنے کی وجہ سے درج کیے گئے ہیں جو لاؤڈ سپیکر کے قانون کے خلاف ہے‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||