مبینہ سیریل کلر سے تفتیش شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مقامی عدالت نے چودہ افراد کے قتل میں ملوث پچیس سالہ نوجوان کو تین روز کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا ہے۔ انوسٹی گیشن پولیس کے سینئر سپرنٹنڈنٹ اشعر حمید نے بتایا کہ ملزم سے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے اور ایسے ثبوت اکٹھے کرنے کی کوشش کی جائے گی جس سے کیس مزید مضبوط ہوسکے۔ لاہور پولیس نے ملزم عامر کو کل صبح گرفتار کیا تھا اور اس پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ ان چودہ افراد کے قتل میں ملوث ہے جنہیں گذشتہ ایک ماہ کے دوران پراسرار حالات میں قتل کیا گیا اور ان کے سر کچلے ہوئے پائے گئے۔ ہلاک ہونے والے تمام افراد بے حد غریب تھے اور اپنی غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر کھلے آسمان تلے سوتے تھے۔ لاہور کی آپریشن ونگ پولیس نے ملزم کو کل شام ہی انوسٹی گیشن پولیس کے حوالے کردیا تھا جس نے مختلف پہلوؤں کو مد نظر رکھ کر تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔ اس ملزم کی گرفتاری سے پہلے پولیس افسران یہ کہتے رہے ہیں کہ سلسلہ وار قتل کسی ایک شخص کا کام نہیں ہے بلکہ اس میں ایک گروہ ملوث ہے لیکن اس ملزم کی گرفتاری کے بعد تمام قتل اسی ملزم سے منسوب کر دیے گئے ہیں۔ تفتیشی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پولیس کے بیان کردہ حقائق میں کئی سقم موجود ہیں۔ ایک طرف جب پولیس افسران کہتے ہیں کہ بعض افراد کا سر پچیس سے تیس کلو وزنی پتھروں سے کچلا گیا تھا تو دوسری طرف پولیس کے اس بیان پر یقین کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ یہ نحیف اور لاغر نوجوان اکیلا ہی اتنے بڑے پتھر اٹھا کر اس سے وار کرتا رہا ہے۔ ایس پی انوسٹی گیشن اشعر حمید کا کہنا ہے کہ ابھی ملزم کے کسی ساتھی کے ساتھ ہونے کے ثبوت نہیں ملے ہیں لیکن تفتیش جاری ہے اور معاملہ کوئی بھی رخ اختیار کر سکتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||