کوئٹہ میں ڈاکٹر پر قاتلانہ حملہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ میں نامعلوم افراد نے معروف ڈاکٹر نادر خان کو گولیاں مار کر زخمی کر دیا ہے جبکہ آواران کی تحصیل مشکے میں نا معلوم افراد نے ایک پیر کی درگاہ کو آگ لگائی ہے۔ جمعہ کی صبح پروفیسر ڈاکٹر نادر خان چلتن ہاؤسنگ سکیم میں اپنے گھر سے باہر نکلے ہی تھے کہ اچانک دو موٹر سائکل سواروں نے ان کی گاڑی پر گولیوں سے حملہ کر دیا جس میں ڈاکٹر نادر خان شدید زخمی ہوئے ہیں۔ کوئٹہ میں سپرنٹنڈنٹ پولیس حامد شکیل نے کہا ہے کہ پولیس مختلف زاویوں سے تفتیش کر رہی ہے جس میں فرقہ وارانہ تشدد کے عنصر کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ سپرنٹنڈنٹ پولیس حامد شکیل نے کہا ہے کہ ڈاکٹر نادر کی کسی سے کوئی ذاتی دشمنی وغیرہ نہیں تھی اور نا ہی کسی سے کوئی اختلافات تھے۔ بلوچستان شیعہ کانفرنس کے صدر اشرف زیدی نے کہا ہے کہ یہ کھلی دہشت گردی ہے اور اس واقعے کی وہ مذمت کرتے ہیں۔ ادھر ضلع آواران کی تحصیل مشکے میں نا معلوم افراد نے ایک درگاہ کو آگ لگا دی جس کے بعد لوگ مشتعل ہو گئے۔ مشکے سےملنے والی اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں قران کے نسخوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ مشکے کے ڈی ایس پی بہرام شاہوانی نے کہا ہے کہ پولیس واقعے کی تفتیس کر رہی ہے ۔ انھوں نے کہا ہے کہ ابھی تک اس کی تصدیق نہیں ہوئی کہ اس کمرے میں قران پاک کے نسخے موجود تھے تاہم انھوں نے کہا ہے کہ درگاہ کے کمرے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ یہ درگاہ پیر حائیبو کی ہے ۔ اس واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||