وکیل احمد متوکل کے بھائی قتل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی حکام نے بتایا ہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت کے سابق وزیر خارجہ وکیل احمد متوکل کے بھائی مولوی جلیل احمد کوئٹہ میں فائرنگ کے دوران مارے گئے ہیں۔وہ کئی برس سے پناہ گزیں کی حیثیت سے پاکستان میں مقیم تھے۔ انکی ہلاکت کی وجوہات تا حال واضح نہیں ہیں پاکستان اور افغانستان میں پیر کی صبح سے یہ خبر گردش کر رہی تھی کہ سابق طالبان دور کے وزیر وکیل احمد متوکل کے بھائی کو کوئٹہ میں قتل کر دیا گیا ہے۔ اس بارے میں معلومات حاصل کیں تو گزشتہ رات فائرنگ کا صرف ایک واقعہ پیش آیا تھا جس میں پرانی دشمنی کی بنا پر ایک ہی قبیلے کے لوگوں پر فائرنگ کر دی گئی تھی جس میں دو افراد ہلاک اور دو زخمی ہو گئے تھے۔ ان میں ایک راہگیر بھی شامل تھا۔ اس راہگیر کی شناخت نہیں ہو پا رہی تھی۔ سول ہسپتال میں ایک ڈاکٹر نے بتایا ہے کے رات گئے راہگیر کی شناخت ہوئی تھی جس کا نام جلیل احمد بتایا گیا ہے اور اس کے رشتہ دار اس کی لاش لے گئے ہیں۔ جلیل احمد کو زخمی حالت میں ہسپتال پہنچایا گیا تھا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے تھے۔ جس مقام پر یہ واقعہ پیش آیا وہ ٹرانسپورٹ کا دفتر ہے اور یہاں سے کراچی کے لیے بسیں چلتی ہیں۔ اس دفتر کے ایک ملازم نے بتایا ہے کہ مولوی جلیل احمد کونے میں ایک سٹال کے پاس بیٹھ کر مشروب پی رہا تھے کہ اندھا دھند فائرنگ کی زد میں آ گئے۔ جلیل احمد کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ سیٹلائیٹ ٹاؤن کے قریب رہتے تھے اور ایک مسجد میں امامت کے فائض سرانجام دیتے تھے۔ نماز کے بعد اکثر سائکل پر سیر کے لیے جاتے تھے۔ اس علاقے میں لوگوں سے پوچھا گیا تو انھوں نے جلیل احمد کے بارے لا علمی کا اظہار کیا۔ مسجد قبا میں موجود لوگوں نے کہا کہ انہیں اس بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے۔ رات گئے ایک لاش یہاں لائی گئی تھی جسے لوگ صبح کے وقت کہیں لے گیے ہیں۔جبکہ کچھ لوگوں نے وہاں اس کی تصدیق کی ہے کہ فاتحہ خوانی ہوتی رہی ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ جلیل احمد کو ایسٹرن بائی پاس کے قریب قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||