’زنا کا مقدمہ: ڈی این اےاہم نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ محض ڈی این اے ٹسٹ کی رپورٹ کی بنیاد پر کسی کو حدود آرڈیننس کے تحت زنا کی سزا نہیں دی جاسکتی بلکہ اس کے لیے حدود آرڈیننس کا شہادتوں کا اپنا معیار ہے اور اسلامی شرع کے مطابق کم از کم چار افراد کی گواہی ضروری ہے۔ لاہور ہائی کورٹ نے یہ رُولنگ حدود آڑڈیننس کے تحت درج ایک مقدمہ کے ملزم کی درخواست ضمانت کی سماعت کےدوران دی۔ امریکہ میں مقیم ایک شخص سید امتیاز علی نے پاکستان میں مقیم اپنی بیوی ارم شیریں اور اظہر نامی ایک شخص کے خلاف حدود کا مقدمہ درج کرایا اور الزام عائد کیا کہ اس کی غیر موجودگی میں دونوں نے جنسی تعلقات استوار کرلیے جن کے نتیجہ میں ایک لڑکی پیدا ہوئی۔ سید امتیاز علی نے اپنا اور اس لڑکی کا امریکہ میں ڈی این اے ٹیسٹ کرایا جس کی رپورٹ نے بتایا کہ یہ لڑکی ان کی حقیقی اولاد نہیں۔ اس رپورٹ کی بنیاد پر انہوں نے اپنی بیوی اور اظہر کے خلاف پاکستان میں حدود کا مقدمہ درج کرا دیا۔ پولیس نے ملزم کو گرفتار کر کے اس کا اور بچی کا پاکستان میں ڈی این اے ٹیسٹ کروایا جس کی رپورٹ کے مطابق بچی اظہر کی اولاد قرار دی گئی۔ ملزم اظہر نے اپنی درخواست ضمانت میں عدالت عالیہ کے روبرو مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس کا امتیاز کی بیوی ارم شیریں سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا اورنہ ہی مذکورہ بچی ان کی اولاد ہے۔ملزم نے یہ بھی کہا کہ محض ڈی این اے کی رپورٹ کو حدود آرڈیننس کا مقدمہ چلانے کی بنیاد نہیں بنایا جاسکتا۔ عدالت نے اس درخواست ضمانت کی سماعت کےدوران گزشتہ پیشی پر وکلاء کو قران کی سورہ نور کی تفسیر کا مطالعہ کرنے کا مشورہ دیا تھا تاکہ اس مقدمہ میں اٹھائے گئے سوالات کا جواب مل سکے۔عدالت نے ایڈووکیٹ اسماعیل قریشی کی معاونت بھی حاصل کی تھی۔ عدالت نے ملزم اظہر کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس نکتہ پر تو اتفاق رائے موجود ہے کہ اسلام تحقیق اور سائنس کا مخالف نہیں ہے اور اس کی حوصلہ افزائی بھی کرتا ہے لیکن ساتھ ساتھ عدالت کے جج نے یہ بھی کہا کہ ڈی این اے ٹسٹ کسی بچے کے حقیقی والد کی تصدیق کے لیے شہادت تو بن سکتا ہے لیکن اسلامی قانون کے تحت حدود میں اسے بطور حتمی شہادت تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت نے کہا کہ اس مقصد کے لیے اسلام میں شہادتوں کا ایک الگ سے معیار مقرر ہے۔ عدالت نے کہا کہ اسلام کے تحت حدود آرڈیننس کے جرم کے تعین کے لیے ان چار افراد کاسامنے آکر گواہی دینا ضروری ہے جنہوں نے یہ جرم(زنا) ہوتے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو اور وہ گواہ بننے کے معیار پر پورا اترتے ہوں۔ عدالت نے کہا کہ اس شہادت کی موجودگی میں ریاست حدود آرڈیننس کے مجرم کو سزا دینے کے لیے آگے آتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ مدعی کو موقع کے چار گواہ پیش کرنا ہونگے۔اگر وہ مطلوبہ گواہ پیش نہ کر سکا تو اسے قرآن میں مقرر کی گئی سزا بھگتنا ہوگی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||