زنابالرضا کے کیس میں ملزم بری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وفاقی شرعی عدالت نے بدھ کے روز بہاولنگر کے ایک اسی سالہ مرد اور پچہتر سالہ عورت کی شادی کو جائز قرار دے کر سیشن کورٹ کی طرف سے انہیں زنا بالرضا کے الزام میں دی گئی سزا کالعدم کردی اور ان کے بچو ں کو جائز قرار دے دیا۔ بہاولنگر کی معظم بی بی کی شادی ایک امیر نامی شخص سے ہوئی تھی جس سے ان کے پانچ بچے تھے۔ بعد میں معظم بی بی نے طلاق لے کر عطا محمد نامی شخص سے شادی کرلی اور اب تک ان دونوں کے چھ بچے ہوچکے ہیں۔ عطا محمد کے اپنی پہلی بیوی سے بھی سات بچے تھے۔ عورت کے پہلے شوہر نے انیس سو چوراسی میں معظم بی بی اور اس کے شوہر عطا محمد پر زنابالرضا کا مقدمہ درج کرایا اور پولیس نے انہیں سنہ دو ہزار دو میں گرفتار کرلیا۔ ایک عدالت نے ان دونوں کو ضمانت پر رہا کردیا۔ تاہم بہاولنگر کی ایک سیشن عدالت نے معظم بی بی اور عطا محمد کو زنا کے الزام میں مجرم قراردیتے ہوئے پانچ پانچ سال قید اور دس دس ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنادی۔ ان دونوں نے اس سزا کے خلاف وفاقی شرعی عدالت میں اپیل دائر کی جس کی سماعت کے دروان میں پنجاب کے اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل رانا عبدالرحمان نے عورت اور اس کی شادی کا دفاع کیا اور کہا کہ اس نے طلاق لے کر شادی کی تھی اور اس بارے میں شہادتیں ٹرائل کورٹ میں پیش کی گئیں لیکن اس نے ان کو نطرانداز کردیا۔ اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ اگر ان دونوں کی سزا برقرار رہی تو ان کے چھ بچے ناجائز قرار پائیں گے جنہیں معاشرہ قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے عدالت سے کہا کہ ان دونوں کے بچے بھی شادی شدہ ہیں اور یہ نانا نانی اور دادا دادی بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عطا محمد نے ان بچوں کے نام جائداد بھی کی ہے اور اگر یہ ناجائز ہوتے تو وہ ایسا کیوں کرتا۔ عدالت نے اسی سالہ عطا محمد اور پچہتر سالہ معظم بی بی کی شادی کو جائز قرار دیتے ہوئے سیشن کورٹ کی سزا ختم کردی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||