BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 10 September, 2004, 12:13 GMT 17:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاہور ہائی کورٹ کا انہدام روک دیاگیا

لاہور ہائی کورٹ
لاہور ہائی کورٹ کو گرانے کا کام عارضی طور پر روک دیا گیا ہے
وکلا ،ماہر تعمیرات اور آرٹس کے طلباء کے احتجاج کے بعد لاہور ہائی کورٹ کی تاریخی عمارت کو منہدم کرنے کا کام عارضی طور پر روک دیا گیا گو اس کا کچھ حصہ منہدم کیا جاچکا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کی سو سالہ پرانی عمارت جو اسپیشل پریمیسز ایکٹ کے تحت آثار قدیمہ میں شمار کی جاتی ہے اسے چیف جسٹس کے حکم پر مخدوش قرار دے کر گرایا جارہا تھا اور اس کی جگہ دو منزلہ عمارت تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

تاہم وکلاء اور ماہر تعمیرات اس تاریخی عمارت کو گرانے کے خلاف احتجاج کررہے ہیں اور آج لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور سابق صدور کا اجلاس طلب کیا گیا کہ اس بارے میں کیا لائحہ عمل اختیار کیا جائے۔

اسی دوران نیشنل کالج آف آرٹس کے پچاس سے زیادہ طلباء اور شہر کے نامور ماہر تعمیر نیر علی داد اور خواجہ ظہیر وغیرہ نے ہائی کورٹ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں مظاہرین نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے کہ لاہور ہائی کورٹ بچاؤ اور تاریخی عمارت کو بچاؤ۔

News image
لاہور ہائی کورٹ کو گرائے جانے کے خلاف احتجاج

لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی کمیٹی نے نیر علی داد اور خواجہ ظہیر کا موقف سنا اور ان سے کہا کہ وہ اگلے منگل تک اس بارے میں اپنی ماہرانہ رائے کے ساتھ ایک رپورٹ بنا کر دیں۔

دوسری طرف چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ افتخار چودھری نے دو ججوں ثاقب نثار اور آصف سعید کھوسہ پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی ہے جو اس بارے میں وکلا تنظیموں وغیرہ کا موقف سنے گی۔

تاہم آج احتجاج کے بعد عارضی طور پر عمارت کو گرائے جانے کا کام منگل تک عارضی طور پر روک دیا گیا۔ عمارت کے ایک ہال کی چھت پہلے ہی گرائی جاچکی ہے۔ انھوں نے کہا اس کا ایک حصہ یہ پہلے ہی گراچکے ہیں اور قائل بھی نہیں ہیں کہ اسے گرانا نہیں چاہیے۔

لاہور کنزرویشن سوسائٹی کے رکن نیر علی داد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس عمارت کو قانون کے تحت تحفظ حاصل ہے اور یہ ان سو عمارتوں میں شامل ہے جنھیں قانون کے تحت گرایا نہیں جاسکتا بلکہ ان میں تبدیلی کے لیے بھی لاہور ترقیاتی ادارہ سے اجازت لینا لازمی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ افسوس کی بات ہے کہ قانون کے رکھوالے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک تاریخی عمارت کو گرا رہے ہیں جو محفوظ کی جانے والی سو عمارتوں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے تو پھر دوسری عمارتوں کو گرانے سے کون بچا سکے گا۔

نیر علی داد نے کہا کہ ایسی کوئی فوری ضوروت یا جلدی نہیں تھی کہ اس عمارت کو گرایا جاتا کیونکہ عمارتیں راتوں رات تو بنتی نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹ کی پرانی عمارت مخدوش حالت میں نہیں ہے اور اس کی چھتیں کنکریٹ کی بنی ہیں۔ تاہم اگر چھتیں مخدوش بھی ہوں تو انھیں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

نیرعلی داد کا کہنا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کی عمارت آرکیٹیکچر کا شاندار نمونہ ہے اور ایک نصاب کی حیثیت رکھتی ہے یہ جاننے کے لیے کہ انگریزوں نے کس طرح مقامی حالات کے مطابق اپنے طرز تعمیر کو ڈھالا اور یہاں کے میٹیریل کو استعمال کیا۔

وہ کہتے ہیں کہ انگریز بر انیہ سے نقشے لائے جس کے تحت انھوں نے کلکتہ میں عمارتیں بنائیں اور لاہور میں اسٹاف کالج اور پرانا جمخانہ بنایا (قائداعظم لائبریری) لیکن بعد میں محسوس کیا کہ وہ ٹھیک نہیں کررہے اور انھوں نے مقامی طرز تعمیر کو ملا کر جو عمارتیں بنائیں ان میں ہائی کورٹ کی عمارت اس کا بہترین نمونہ ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد