’ایل پی جی رکشے چلنے دیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور ہائی کورٹ نے ایک حکم امتناعی کے ذریعے لاہور کی ضلعی حکومت کو ایل پی جی گیس سے چلنے والے رکشوں پر پابندی لگانے سے روک دیا ہے۔ اس پابندی کو ایک رٹ درخواست کے ذریعے چیلنج کیا گیا تھا۔ جج بلال خان نے وفاقی وزارت قدرتی وسائل، ٹریفک پولیس اور لاہور کی شہری حکومت کو تین ہفتوں میں اس رٹ درخواست کا جواب دینے کا نوٹس جاری کردیا اور اس وقت تک حکومت کو ایل پی جی گیس سے چلنے والے رکشوں کے خلاف پابندی نہ لگانے کا حکم دیا۔ حکومت نے تین مئی کو علامہ اقبال ٹاؤن کے علاقہ میں ایل پی جی گیس کے سلنڈرز پھٹنے سے بیس افراد کی ہلاکت کے بعد ایل پی جی گیس کی ری فلنگ کی دکانوں اور ایل پی جی گیس سے چلنے والے رکشوں پر پابندی لگادی تھی۔ رکشہ یونین کے صدر نعمت علی شاہ نے اس پابندی کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ ان کے وکیل نصیر بھٹہ نے رٹ درخواست میں موقف اختیار کیا کہ ایل پی جی گیس سے رکشہ چلانے والے اس گیس کے صارف ہیں جبکہ حکومت ریگولیشن کے قوانین کا اطلاق اس گیس کے تقسیم کرنے والوں پر کر سکتی ہے نہ کہ استعمال کرنے والوں پر۔ رکشہ یونین کا موقف ہے کہ یہ پابندی ہزاروں لوگوں کا روزگار ختم کرنے کے مترادف ہے جو آئین میں دیے گئے روزگار کمانے کے بنیادی حق کے منافی ہے۔ رٹ درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کاروں میں ایل پی جی گیس استعمال ہورہی ہے اور اس پر کوئی پابندی نہیں اس لیے رکشہ والوں کے خلاف حکومت آئین کے خلاف اُن سے امتیازی سلوک کررہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||