لاہور:عمارت گِرنے سے 28 ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں منگل کو الصبح ایل پی جی گیس کے سلنڈرز پھٹنے سے تین عمارتیں گر گئیں اور کئی افراد ہلاک ہوگئے۔ سہ پہر تک اٹھائیس افراد کی لاشیں نکالی جاچکی تھیں۔ خدشہ ہے کہ مرنے والوں کی تعداد زیادہ ہوسکتی ہے۔ یہ واقعہ منگل کو نصف شب کے بعد ڈھائی بجے علامہ اقبال ٹاؤن میں ملتان روڈ کے ساتھ سبزی منڈی میں پیش آیا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ عمارتیں رہائشی اور تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کی جاتی تھی جن میں دو خاندان اور کم سے کم تیس مزدور رہتے تھے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں جنوبی چھاؤنی سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کے سات افراد شامل ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر مزدور ہیں جو آئس کریم بیچنے کی ریڑھیاں چلاتے تھے یا کارخانوں میں کام کرتے تھے۔ بعض کا تعلق دور دراز کے دیہی علاقوں سے ہے۔ علاقہ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ گیس سلنڈر بھرنے کا گودام، ایک آئس کریم بنانے کا کارخانہ اور دھاگہ بنانےکا کارخانہ ساتھ ساتھ واقع تھے۔ یہاں پر بڑے سلنڈر سے چھوٹے سلنڈر میں گیس بھری جاتی تھی۔ مقامی لوگوں کے مطابق گیس کے سلنڈر میں زوردار دھماکہ ہوا اور لگتا تھا جیسے ایک عمارت کو ڈائنامائٹ لگار کر اڑا دیا گیا ہو اور ساتھ کی دو عمارتیں بھی منہدم ہوگئیں۔ عمارتوں کی اینٹ اینٹ جدا ہوگئی۔ عمارت کے گرنے سے آس پاس کی عمارتوں کو بھی خاصا نقصان پہنچا اور ان کے شیشے ٹوٹ گئے۔ کئی گاڑیاں ملبے کے نیچے دب گئیں اورایک ٹرک مکمل تباہ ہوگیا۔ جیسے ہی یہ واقعہ پیش آیا اس پاس کے لوگوں نے موقع پر پہنچ کر عمارت کے ملبہ کو ہٹانا شروع کیا اور دبے ہوئے لوگوں کی لاشیں نکالیں جنہیں جناح ہسپتال پہنچا دیا گیا۔ بعد میں پولیس، شہری دفاع اور ’ریسکیو ون ٹو تھری‘ کے اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر بلڈوزروں اور کرینوں کی مدد سے ملبہ ہٹانے کا کام شروع کیا۔ سہ پہر تک لاشیں نکالنے کا کام جاری تھا اور مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ ملبہ ہٹانے کا کام سست رفتاری سے ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق ملبے کے نیچے دو افراد کو زندہ دیکھا گیا تھا لیکن جب تک انہیں باہر نکالا گیا وہ مر چکے تھے۔ لاہور کے ناظم میاں عامر محمود نے بی بی سی کو بتایا کہ سست روی کی وجہ احتیاط ہے تاکہ ملبہ کے نیچے جو لوگ زندہ ہیں ان کو بچایا جاسکے اور ان کو ملبہ گرنے سے نقصان نہ پہنچے۔ عمارت کا ایک تہہ خانہ بھی تھا جو ابھی ملبہ تلے دبا ہے۔ لاہور میں جگہ جگہ رہائشی اور تجارتی علاقوں میں ایل پی جی گیس کے بڑے سلنڈروں سے چھوٹے سلنڈروں کو بھرنے کی دکانیں موجود ہیں۔ ان دکانیں پر سلنڈروں سے رکشہ گاڑیوں میں لگے چھوٹے سلنڈروں میں گیس بھری جاتی ہے۔ گیس رائے ونڈ میں ایل پی جی گیس کے پلانٹ سے خریدتی ہیں۔ شادمان میں نہر کے ساتھ گیس کی ایک دکان کے مالک محمد فیصل نے بی بی سی کو بتایا کہ باہر سے درآمد کیے گئے سلنڈر بالکل محفوظ ہیں اور پھٹنے والے سلنڈر دیسی طور پر تیار کیے جاتے ہیں اور کھلے عام فروخت ہورہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض لوگ سلنڈر کو اس کی گنجائش سے زیادہ بھرتے ہیں جس سے بھی سلنڈر پھٹ سکتا ہے۔ پنجاب حکومت نے اس حادثہ میں مرنے والے اور زخمی ہونے والوں کے لیے مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔ رکشہ، گیس سلنڈر اور حکومت پنجاب حکومت کے محکمہ تحفظ ماحول نے پانچ سال پہلے ایک مہم چلا کر رکشہ والوں کو اس بات پر آمادہ کیا تھا اور پولیس کے ذریعے مجبور کیا تھا کہ وہ پٹرول کے بجائے ایل پی جی گیس استعمال کریں جو سستی بھی ہے اور ماحول کے لیے صاف بھی۔ پانچ سال پہلے چلائی جانے والی اس مہم میں رکشہ والوں نے کروڑوں روپے کی گیس کٹس لگوائیں اور لاہور میں ہزاروں رکشے ایل پی جی گیس پر منتقل ہوگئے۔ تاہم چند ماہ پہلے حکومت نے اپنے پہلے فیصلہ کے برعکس ایل پی جی گیس استعمال کرنے والے رکشوں پر پابندی لگادی تھی اوراسے حفاظتی نقطہ نظر سے خطرناک قرار دیا تھا۔ جب رکشوں کو بند کرنے کے لیے مہم چلائی گئی تو رکشہ ایسوسی ایشن نے احتجاج کیا تھا اور کہا تھا کہ اس سے کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں۔ اس پر حکومت نے اپنی مہم بند کردی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||